الف میم ، آپ کے اور استفادۂ عام کے لئے ان کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے۔ امید ہے اسے مثبت انداز میں لیں گے ۔
بہت شکریہ، مفید اور معلوماتی تبصرہ فرمایا ہے آپ نے، ہمیشہ کی طرح
اور ہم نے بھی مثبت انداز میں ہی لیا ہے، ہمیشہ کی طرح
محفل میں شیئر بھی اِسی لیے کرتے ہیں کہ ایسے نکات سامنے آئیں اور ان پہ بات ہو سکے۔
صحبتیں ویسی ہی کرتا ہے پسند
جس کا جتنا ظرف جیسا ذوق ہے
پہلے مصرع میں ویسی کا لفظ استعمال کرنے کے بعد دوسرے میں جیسی یا جیسا ہی آسکتا ہے ۔ جتنا نہیں آئے گا۔
اِس کو یوں پڑھیے:
جس کا جتنا ظرف ہے اور جیسا ذوق ہے
وہ ویسی ہی صحبتیں پسند کرتا ہے
جو نہ کچھ کہنے پہ بھی دیتا ہو داد
کیا کسی کا اِس طرح کا ذوق ہے؟
یہ شعر گرامر کے لحاظ سے ٹھیک نہیں ۔ الجھا ہوا ہے ۔ پہلے مصرع میں ضمیر موصولہ "جو" استعمال کرنے کے بعد دوسرے میں جواب صلہ لانا ضروری ہے ورنہ بیان مکمل نہیں ہوگا ۔ مثلاً جو آدمی کل آیا تھا وہ صبح چلا گیا ۔ جو بن مانگے دیتا ہو کوئی ایسا داتا بھی ہے ۔ آپ کے شعر میں جواب صلہ " کوئی اس طرح کا ذوق" ہے ۔ ظاہر ہے کہ داد "ذوق" نہیں دیتا ذوق والا دیتا ہے ۔ چنانچہ درست نثر یوں ہوگی ۔ جو کچھ نہ کہنے پر بھی داد دیتا ہو کیا کوئی ایسا ذوق والا بھی ہے؟
اس کو یوں پڑھیے:
کیا کسی کا اِس طرح کا ذوق ہے کہ وہ کچھ نہ کہنے پہ بھی داد دیتا ہو؟
الجھاؤ دور کرنے کے لیے ’جو‘ کی جگہ ’وہ‘ کیا جا سکتا ہے۔
ہستی اپنی بھی سمجھ آ جائے گی
پر ابھی اِدراک سے مافوق ہے
درست محاورہ سمجھ میں آنا ہے ، سمجھ آنا نہیں ۔
ہمارے یہاں عام بولا جاتا ہے سمجھ آنا۔
میم الف کے شعر کرتے ہیں پسند
بھائی بہنیں جن کا اچھا ذوق ہے
بھائی بہنیں خلافِ محاورہ ہے ۔ بھائی بہن کہنا فصیح ہے ۔ البتہ بھائی اور بہنیں درست ہوگا ۔
(وہ) بھائی (اور) بہنیں جن کا اچھا ذوق ہے