شاعری کرنا ہمارا شوق ہے

میم الف — جون 26، 2021 6:21 شام
چند تازہ اشعار:
شاعری کرنا ہمارا شوق ہے
شوق یہ اپنے گلے کا طوق ہے
صحبتیں ویسی ہی کرتا ہے پسند
جس کا جتنا ظرف جیسا ذوق ہے
جو نہ کچھ کہنے پہ بھی دیتا ہو داد
کیا کسی کا اِس طرح کا ذوق ہے؟
ہستی اپنی بھی سمجھ آ جائے گی
پر ابھی اِدراک سے مافوق ہے
حق اکیلا ایک تنہا لاشریک
اور باطل فوج پلٹن جوق ہے
میم الف کے شعر کرتے ہیں پسند
بھائی بہنیں جن کا اچھا ذوق ہے
میم الف | جون ۲۰۲۱​
یاسر شاہ — جون 26، 2021 8:01 شام
واہ منیب بھائی اکبر الہ آبادی کے رنگ میں سیدھےسادھے، نپے تلے ، چست و شوخ شعر کہے ہیں۔
ہستی اپنی بھی سمجھ آ جائے گی
پر ابھی اِدراک سے مافوق ہے
حق اکیلا ایک تنہا لاشریک
اور باطل فوج پلٹن جوق ہے
واہ، خوب۔ یہ بطور خاص پسند آئے۔
میم الف کے شعر کرتے ہیں پسند
بھائی بہنیں جن کا اچھا ذوق ہے
ثابت ہوا کہ میرا اچھا ذوق ہے۔;)
فاخر رضا — جون 27، 2021 3:40 صبح
بہت اچھے لگے آپ کے اشعار
بھائی بہنیں جن کا اچھا ذوق ہے

ثابت ہوا کہ میرا اچھا ذوق ہے۔
میم الف — جون 27، 2021 6:40 صبح
واہ منیب بھائی اکبر الہ آبادی کے رنگ میں سیدھےسادھے، نپے تلے ، چست و شوخ شعر کہے ہیں۔
واہ، خوب۔ یہ بطور خاص پسند آئے۔
ثابت ہوا کہ میرا اچھا ذوق ہے۔;)
شکریہ یاسر صاحب
بنا ثبوت بھی ہم اس کے قائل پہلے ہی سے ہیں :)
محمد تابش صدیقی — جون 27، 2021 6:46 صبح
بہت خوب منیب بھائی
صحبتیں ویسی ہی کرتا ہے پسند
جس کا جتنا ظرف جیسا ذوق ہے

ہستی اپنی بھی سمجھ آ جائے گی
پر ابھی اِدراک سے مافوق ہے

حق اکیلا ایک تنہا لاشریک
اور باطل فوج پلٹن جوق ہے
آپ کے کلام میں ہمیشہ بے ساختگی ہوتی ہے، جو بلاشبہ ایک اچھا سخنور ہونے کی علامت ہے۔
میم الف — جون 27، 2021 6:49 صبح
بہت اچھے لگے آپ کے اشعار
بہت تیز ہیں آپ ڈاکٹر صاحب
آپ کی فوٹو بتاتی ہے کہ آپ ڈاکٹر تو ہیں ہی، ساتھ میں سوپرمین بھی ہیں
ایسے اقتسابات چنے ہیں کہ بنا کہے ہی خوش ذوقی آپ کی ثابت ہو رہی ہے :)
میم الف — جون 27، 2021 6:57 صبح
بہت خوب منیب بھائی
آپ کے کلام میں ہمیشہ بے ساختگی ہوتی ہے، جو بلاشبہ ایک اچھا سخنور ہونے کی علامت ہے۔
بہت شکریہ تابش بھائی۔
بس آپ کی بنائی ایپس سے میر، غالب اور اقبال کی اتنی شاعری پڑھی ہے کہ کچھ نہ کچھ روانی یا بے ساختگی کلام میں نظر آنے لگی ہے
اس لیے شکریہ ہمیں آپ کا ہی کرنا چاہیے :)
ظہیراحمدظہیر — جون 27، 2021 7:24 صبح
منیب ، غزل تو آپ نے ٹھیک لکھی ہے لیکن پوسٹ کرنے میں جلد بازی سے کام لیا ۔ چاہئے تھا کہ ان اشعار کے ساتھ کچھ وقت گزارتے اور نوک پلک درست کرتے ۔ کئی اشعار میں لسانی سقم ہے۔ گرامر کی غلطی کلام کو معیار سے گرادیتی ہے اور شاعری میں تو اس کی بالکل گنجائش نہیں ۔
صحبتیں ویسی ہی کرتا ہے پسند
جس کا جتنا ظرف جیسا ذوق ہے
پہلے مصرع میں ویسی کا لفظ استعمال کرنے کے بعد دوسرے میں جیسی یا جیسا ہی آسکتا ہے ۔ جتنا نہیں آئے گا۔
جو نہ کچھ کہنے پہ بھی دیتا ہو داد
کیا کسی کا اِس طرح کا ذوق ہے؟
یہ شعر گرامر کے لحاظ سے ٹھیک نہیں ۔ الجھا ہوا ہے ۔ پہلے مصرع میں ضمیر موصولہ "جو" استعمال کرنے کے بعد دوسرے میں جواب صلہ لانا ضروری ہے ورنہ بیان مکمل نہیں ہوگا ۔ مثلاً جو آدمی کل آیا تھا وہ صبح چلا گیا ۔ جو بن مانگے دیتا ہو کوئی ایسا داتا بھی ہے ۔ آپ کے شعر میں جواب صلہ " کوئی اس طرح کا ذوق" ہے ۔ ظاہر ہے کہ داد "ذوق" نہیں دیتا ذوق والا دیتا ہے ۔ چنانچہ درست نثر یوں ہوگی ۔ جو کچھ نہ کہنے پر بھی داد دیتا ہو کیا کوئی ایسا ذوق والا بھی ہے؟
ہستی اپنی بھی سمجھ آ جائے گی
پر ابھی اِدراک سے مافوق ہے
درست محاورہ سمجھ میں آنا ہے ، سمجھ آنا نہیں ۔
میم الف کے شعر کرتے ہیں پسند
بھائی بہنیں جن کا اچھا ذوق ہے
بھائی بہنیں خلافِ محاورہ ہے ۔ بھائی بہن کہنا فصیح ہے ۔ البتہ بھائی اور بہنیں درست ہوگا ۔
الف میم ، آپ کے اور استفادۂ عام کے لئے ان کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے۔ امید ہے اسے مثبت انداز میں لیں گے ۔
میم الف — جون 27، 2021 8:33 صبح
الف میم ، آپ کے اور استفادۂ عام کے لئے ان کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے۔ امید ہے اسے مثبت انداز میں لیں گے ۔
بہت شکریہ، مفید اور معلوماتی تبصرہ فرمایا ہے آپ نے، ہمیشہ کی طرح
اور ہم نے بھی مثبت انداز میں ہی لیا ہے، ہمیشہ کی طرح
محفل میں شیئر بھی اِسی لیے کرتے ہیں کہ ایسے نکات سامنے آئیں اور ان پہ بات ہو سکے۔
صحبتیں ویسی ہی کرتا ہے پسند
جس کا جتنا ظرف جیسا ذوق ہے
پہلے مصرع میں ویسی کا لفظ استعمال کرنے کے بعد دوسرے میں جیسی یا جیسا ہی آسکتا ہے ۔ جتنا نہیں آئے گا۔
اِس کو یوں پڑھیے:
جس کا جتنا ظرف ہے اور جیسا ذوق ہے
وہ ویسی ہی صحبتیں پسند کرتا ہے
جو نہ کچھ کہنے پہ بھی دیتا ہو داد
کیا کسی کا اِس طرح کا ذوق ہے؟
یہ شعر گرامر کے لحاظ سے ٹھیک نہیں ۔ الجھا ہوا ہے ۔ پہلے مصرع میں ضمیر موصولہ "جو" استعمال کرنے کے بعد دوسرے میں جواب صلہ لانا ضروری ہے ورنہ بیان مکمل نہیں ہوگا ۔ مثلاً جو آدمی کل آیا تھا وہ صبح چلا گیا ۔ جو بن مانگے دیتا ہو کوئی ایسا داتا بھی ہے ۔ آپ کے شعر میں جواب صلہ " کوئی اس طرح کا ذوق" ہے ۔ ظاہر ہے کہ داد "ذوق" نہیں دیتا ذوق والا دیتا ہے ۔ چنانچہ درست نثر یوں ہوگی ۔ جو کچھ نہ کہنے پر بھی داد دیتا ہو کیا کوئی ایسا ذوق والا بھی ہے؟
اس کو یوں پڑھیے:
کیا کسی کا اِس طرح کا ذوق ہے کہ وہ کچھ نہ کہنے پہ بھی داد دیتا ہو؟
الجھاؤ دور کرنے کے لیے ’جو‘ کی جگہ ’وہ‘ کیا جا سکتا ہے۔
ہستی اپنی بھی سمجھ آ جائے گی
پر ابھی اِدراک سے مافوق ہے
درست محاورہ سمجھ میں آنا ہے ، سمجھ آنا نہیں ۔
ہمارے یہاں عام بولا جاتا ہے سمجھ آنا۔
میم الف کے شعر کرتے ہیں پسند
بھائی بہنیں جن کا اچھا ذوق ہے
بھائی بہنیں خلافِ محاورہ ہے ۔ بھائی بہن کہنا فصیح ہے ۔ البتہ بھائی اور بہنیں درست ہوگا ۔
(وہ) بھائی (اور) بہنیں جن کا اچھا ذوق ہے
فاخر رضا — جون 27، 2021 9:24 صبح
ہمارے یہاں عام بولا جاتا ہے
سمجھ آنا (دھمکی کے انداز میں)
سمجھ میں آنا (سمجھنے کے لئے)
ظہیراحمدظہیر — جون 27، 2021 8:45 شام
بہت شکریہ، مفید اور معلوماتی تبصرہ فرمایا ہے آپ نے، ہمیشہ کی طرح
اور ہم نے بھی مثبت انداز میں ہی لیا ہے، ہمیشہ کی طرح
محفل میں شیئر بھی اِسی لیے کرتے ہیں کہ ایسے نکات سامنے آئیں اور ان پہ بات ہو سکے۔
اِس کو یوں پڑھیے:
جس کا جتنا ظرف ہے اور جیسا ذوق ہے
وہ ویسی ہی صحبتیں پسند کرتا ہے
اس کو یوں پڑھیے:
کیا کسی کا اِس طرح کا ذوق ہے کہ وہ کچھ نہ کہنے پہ بھی داد دیتا ہو؟
الجھاؤ دور کرنے کے لیے ’جو‘ کی جگہ ’وہ‘ کیا جا سکتا ہے۔
ہمارے یہاں عام بولا جاتا ہے سمجھ آنا۔
(وہ) بھائی (اور) بہنیں جن کا اچھا ذوق ہے
ارے صاحب ، جیسے آپ کہتے ہیں ویسے ہی پڑھ لیتے ہیں ۔ ہم تو آپ کی خوشی میں خوش ہیں ۔:)
میم الف — جون 28، 2021 4:19 صبح
ارے صاحب ، جیسے آپ کہتے ہیں ویسے ہی پڑھ لیتے ہیں ۔ ہم تو آپ کی خوشی میں خوش ہیں ۔:)
یہ آپ کا بڑا پن ہے جی
ہم کسی خاص طرح پڑھوانے کی جسارت کیسے کر سکتے ہیں
ہماری مراد صرف یہ تھی کہ مصرعوں کی جو نثری ساخت ہمارے ذہن میں تھی، وہ یہ ہے
الف عین — جون 28، 2021 5:30 صبح
اگر مجھ سے اس کی اصلاح کا کیا جائے تو میں اسے یوں کہتا
جس کا جیسا ظرف جیسا ذوق ہے
ظرف کی صفت 'جیسا' بھی ممکن ہے، چاہے پیالی ہو یا گھڑا!
اور یہ...
کچھ نہ کہنے پر بھی جو دیتا ہو داد
اس طرح 'پہ' جیسے کم از کم مجھے نا پسند لفظ سے بھی نجات مل سکتی ہے، اور 'جو' دوسرے مصرعے سے قریب تر ہو جائے گا۔
البتہ سمجھ آنا غیر فصیح تو ہے ہی، اس میں کیا شک ہے! اور اسی شعر میں 'پر' بمعنی مگر بھی میرا نا پسندیدہ لفظ یے۔ میرے خیال میں اس شعر کو غزل بدر کر ہی دیا جائے
میم الف — جون 28، 2021 7:14 صبح
اگر مجھ سے اس کی اصلاح کا کیا جائے تو میں اسے یوں کہتا
جس کا جیسا ظرف جیسا ذوق ہے
ظرف کی صفت 'جیسا' بھی ممکن ہے، چاہے پیالی ہو یا گھڑا!
اور یہ...
کچھ نہ کہنے پر بھی جو دیتا ہو داد
اس طرح 'پہ' جیسے کم از کم مجھے نا پسند لفظ سے بھی نجات مل سکتی ہے، اور 'جو' دوسرے مصرعے سے قریب تر ہو جائے گا۔
البتہ سمجھ آنا غیر فصیح تو ہے ہی، اس میں کیا شک ہے! اور اسی شعر میں 'پر' بمعنی مگر بھی میرا نا پسندیدہ لفظ یے۔ میرے خیال میں اس شعر کو غزل بدر کر ہی دیا جائے
مفید تنقید ہے ہمیشہ کی طرح، جزاک اللہ
محمد شکیل خورشید — جون 28، 2021 11:09 صبح
جو نہ کچھ کہنے پہ بھی دیتا ہو داد
کیا کسی کا اِس طرح کا ذوق ہے؟
ڈرتے ڈرتے جسارت کر رہا ہوں، وہ بھی اپنی سمجھ کے لئے
کیا یوں کہنا مناسب ہوگا؟
جو نہ کچھ کہنے پہ بھی دیتا ہو داد
ہے کوئی جو اس قدر باذوق ہے
محمد شکیل خورشید — جون 28، 2021 11:11 صبح
داد قبول کیجئے، اساتذہ کی باتیں اپنی جگہ درست، خیالات کی نکتہ افرینی اچھی لگی
محمد شکیل خورشید — جون 28، 2021 11:24 صبح
داد قبول کیجئے، اساتذہ کی باتیں اپنی جگہ درست، خیالات کی نکتہ افرینی اچھی لگی
میم الف — جون 28، 2021 11:26 صبح
ڈرتے ڈرتے جسارت کر رہا ہوں، وہ بھی اپنی سمجھ کے لئے
کیا یوں کہنا مناسب ہوگا؟
جو نہ کچھ کہنے پہ بھی دیتا ہو داد
ہے کوئی جو اس قدر باذوق ہے
یہ بھی عمدہ ہے شکیل صاحب
میم الف — جون 28، 2021 11:27 صبح
داد قبول کیجئے، اساتذہ کی باتیں اپنی جگہ درست، خیالات کی نکتہ افرینی اچھی لگی
بہت شکریہ جی :)
ظہیراحمدظہیر — جون 29، 2021 10:19 شام
ڈرتے ڈرتے جسارت کر رہا ہوں، وہ بھی اپنی سمجھ کے لئے
کیا یوں کہنا مناسب ہوگا؟
جو نہ کچھ کہنے پہ بھی دیتا ہو داد
ہے کوئی جو اس قدر باذوق ہے
اچھا ہے شکیل بھائی ! اب گرامر درست ہوگئی ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7-%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7-%D8%B4%D9%88%D9%82-%DB%81%DB%92.116776/