شبِ عاشور سکینہ اپنے والد سے

Wajih Bukhari — ستمبر 14، 2019 9:58 صبح
بنے گا رنج کا کوئی سبب کبھی نہ کبھی
تمام ہو گا بالآخر یہ سب کبھی نہ کبھی
ذرا سی دیر ہے باقی سحر کے ہونے میں
گزر تو جائے گی آخر یہ شب کبھی نہ کبھی
اگرچہ قفل لگے ہوں گے لب کی جنبش پر
تمہارا نام پکاریں گے لب کبھی نہ کبھی
یہ سوچ سوچ کے دل غم سے پھٹ رہا ہے مرا
یہ خواب ختم تو ہونا ہے اب کبھی نہ کبھی
تمہارے عشق کی طاقت سے خوف آتا ہے
بڑھے گی اور زیادہ طلب کبھی نہ کبھی
ابھی تو سخت ہیں گھڑیاں فراق کی دل پر
رکے گا دل پہ یہ جاری غضب کبھی نہ کبھی
پڑھیں گے لوگ جو میں نے لہو سے لکھّا ہے
تمہارے ذکر کا قصّہ عجب کبھی نہ کبھی
وہ بات ختم کریں گے جو نا تمام رہی
ہماری ہو گی ملاقات جب کبھی نہ کبھی
دمِ فراق دلاسے مجھے یہ دیتے ہو
کہ لوٹ آئے گا وقتِ طرَب کبھی نہ کبھی
اب اس کے بعد اسی آسرے پہ جینا ہے
سنے گا نالہ و فریاد رب کبھی نہ کبھی
محمد عدنان اکبری نقیبی — ستمبر 14، 2019 10:30 صبح
بہت شاندار ،
عمدہ اور لاجواب غزل ۔
Wajih Bukhari — ستمبر 14، 2019 10:33 صبح
بہت شاندار ،
عمدہ اور لاجواب غزل ۔
مہربانی۔ کوشش تو کی تھی سوز یا سلام لکھنے کی
محمد عدنان اکبری نقیبی — ستمبر 14، 2019 10:35 صبح
مہربانی۔ کوشش تو کی تھی سوز یا سلام لکھنے کی
ماشاءاللہ ،
عمدہ کوشش ہے ،
ایسے ہی کوشش جاری رکھیں ،
ان شاء اللہ قبولیت کا شرف ضرور حاصل ہو گا ۔
Wajih Bukhari — ستمبر 14، 2019 10:36 صبح
ماشاءاللہ ،
عمدہ کوشش ہے ،
ایسے ہی کوشش جاری رکھیں ،
ان شاء اللہ قبولیت کا شرف ضرور حاصل ہو گا ۔
آپ کی نوازش ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%A8%D9%90-%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%88%D8%B1-%D8%B3%DA%A9%DB%8C%D9%86%DB%81-%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%AF-%D8%B3%DB%92.108423/