شعلے ہی بتیوں میں مقدّر تھے موم کے - منیب الفؔ

منیب الف — فروری 26، 2018 5:18 صبح
شعلے ہی بتیوں میں مقدّر تھے موم کے
شب بوند بوند ٹپکے جو گوہر تھے موم کے
جب تک نگاہ سامنے رکھی تھے آفتاب
دیکھا جو ایک بار پلٹ کر تھے موم کے
آتش سے کھیلنے کا تھا شوقین بادشاہ
حالانکہ سلطنت میں سبھی گھر تھے موم کے
سورج تھا سر پہ، دل میں بلندی کی تھی ہوس
ہوش آیا گرتے وقت مرے پر تھے موم کے
اپنی ہی آرزو کی تپش سے پگھل گئے
ہم لوگ بھی الفؔ کوئی پیکر تھے موم کے​
محمداحمد — مارچ 26، 2018 11:52 صبح
آتش سے کھیلنے کا تھا شوقین بادشاہ
حالانکہ سلطنت میں سبھی گھر تھے موم کے
سورج تھا سر پہ، دل میں بلندی کی تھی ہوس
ہوش آیا گرتے وقت مرے پر تھے موم کے
اپنی ہی آرزو کی تپش سے پگھل گئے
ہم لوگ بھی الفؔ کوئی پیکر تھے موم کے

واہ واہ واہ!
خوبصورت اشعار!
بہت سی داد حاضر خدمت ہے۔
محمد وارث — مارچ 26، 2018 12:28 شام
عمدہ غزل ہے منیب صاحب، لاجواب!
محمد تابش صدیقی — مارچ 26، 2018 12:44 شام
شعلے ہی بتیوں میں مقدّر تھے موم کے
شب بوند بوند ٹپکے جو گوہر تھے موم کے

جب تک نگاہ سامنے رکھی تھے آفتاب
دیکھا جو ایک بار پلٹ کر تھے موم کے

آتش سے کھیلنے کا تھا شوقین بادشاہ
حالانکہ سلطنت میں سبھی گھر تھے موم کے

سورج تھا سر پہ، دل میں بلندی کی تھی ہوس
ہوش آیا گرتے وقت مرے پر تھے موم کے

اپنی ہی آرزو کی تپش سے پگھل گئے
ہم لوگ بھی الفؔ کوئی پیکر تھے موم کے

کیا کہنے منیب بھائی۔
یہ کیسے نظر سے رہ گئی؟ :)
منیب الف — مارچ 26، 2018 12:46 شام
واہ واہ واہ!
خوبصورت اشعار!
بہت سی داد حاضر خدمت ہے۔
بہت شکریہ، محمداحمد بھائی!
آپ کی داد میرے لیے حوصلہ افزا ہے :)
لئیق احمد — مارچ 26، 2018 12:50 شام
منیب بھائی آپ کی ایسی ہی کاوش کو دیکھنے کا انتظار تھا، بہت خوب مزا، پڑھ کر آیا
منیب الف — مارچ 26، 2018 12:51 شام
عمدہ غزل ہے منیب صاحب، لاجواب!
ہمت افزائی کے لیے شکر گزار ہوں، وارث بھائی :)
منیب الف — مارچ 26، 2018 12:59 شام
کیا کہنے منیب بھائی۔
یہ کیسے نظر سے رہ گئی؟ :)
بہت شکریہ، تابش بھائی!
جب بھی آپ کی نظر پڑ جائے، میرے لیے خوشی کا باعث ہے۔
دیر اویر کیسی :)
منیب الف — مارچ 26، 2018 1:10 شام
منیب بھائی آپ کی ایسی ہی کاوش کو دیکھنے کا انتظار تھا، بہت خوب مزا، پڑھ کر آیا
شکریہ، لئیق بھائی!
آپ کی داد سے دل بڑھ گیا :)
محمد تابش صدیقی — مارچ 26، 2018 1:12 شام
شکریہ، لئیق بھائی!
آپ کی داد سے دل بڑھ گیا :)
فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ :)
منیب الف — مارچ 26، 2018 1:19 شام
فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ :)
دل بڑھا ہے، تابش بھائی، بخار تو نہیں ;)
محمد تابش صدیقی — مارچ 26، 2018 1:25 شام
دل بڑھا ہے، تابش بھائی، بخار تو نہیں ;)
دل بڑھنا زیادہ خطرناک ہے۔ :)
منیب الف — مارچ 26، 2018 1:40 شام
دل بڑھنا زیادہ خطرناک ہے۔ :)
دل بڑھا تھا، لیکن ڈاکٹر کی فیس کا سوچتے ہی گھٹ بھی گیا ہے۔
اب میں نارمل محسوس کر رہا ہوں :dance:
احمد وصال — مارچ 27، 2018 6:59 صبح
شعلے ہی بتیوں میں مقدّر تھے موم کے
شب بوند بوند ٹپکے جو گوہر تھے موم کے
جب تک نگاہ سامنے رکھی تھے آفتاب
دیکھا جو ایک بار پلٹ کر تھے موم کے
آتش سے کھیلنے کا تھا شوقین بادشاہ
حالانکہ سلطنت میں سبھی گھر تھے موم کے
سورج تھا سر پہ، دل میں بلندی کی تھی ہوس
ہوش آیا گرتے وقت مرے پر تھے موم کے
اپنی ہی آرزو کی تپش سے پگھل گئے
ہم لوگ بھی الفؔ کوئی پیکر تھے موم کے​
۔۔
وااااااااہ بہت عمدہ
داد قبول۔فرمائیں
منیب الف — مارچ 27، 2018 7:08 صبح
۔۔
وااااااااہ بہت عمدہ
داد قبول۔فرمائیں
داد عطا فرمانے کا بہت شکریہ، احمد وصال بھائی :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%92-%DB%81%DB%8C-%D8%A8%D8%AA%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%91%D8%B1-%D8%AA%DA%BE%DB%92-%D9%85%D9%88%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D9%86%DB%8C%D8%A8-%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%94.100312/