شمشاد نہیں کرنا

رشید حسرت — ستمبر 9، 2021 4:24 شام
گو پنکھ نہیں پِھر بھی آزاد نہِیں کرنا
نا شاد رکھو مُجھ کو تُم شاد نہِیں کرنا
قد کاٹھ اگر دو گے، سمجُھوں گا تُمہیں بونا
بونا ہی رکھو مُجھ کو شمشاد نہیں کرنا
تُم عام سی لڑکی ہو، میں عام سا لڑکا ہوں
شِیرِیںؔ نہ سمجھ بیٹھو، فرہادؔ نہِیں کرنا
ایسے نہ اُجڑ جانا دیکھو تو کہّیں تُم بھی
بستی ہی کوئی دِل کی آباد نہِیں کرنا
جو ذہن کے ریشوں میں رچ بس کے رہا اس سے
کیسے یہ کرُوں وعدہ اب یاد نہِیں کرنا
اِس شہر کے حاکِم نے یہ حُکم کیا جاری
کُچھ بھی ہو کوئی ہرگز فریاد نہِیں کرنا
بس ایک انا پائی، گھر اپنا لُٹا بیٹھے
اے بیٹِیو! اے بیٹو! اضداد نہِیں کرنا
تہذِیب بتا دے گی، تُم کتنے مُہذّب ہو
ظاہر ہی کسی پر تُم اسناد نہِیں کرنا
کُچھ وقت کبھی ہم نے اِک ساتھ گُزارا ہے
اب جور و جفا حسرتؔ، بے داد نہِیں کرنا
رشِید حسرتؔ
جاسمن — ستمبر 9، 2021 6:36 شام
واہ بھئی واہ۔
میں تو شمشاد بھائی کا نام پڑھ کے آئی تھی اور ایک پیاری سی غزل سامنے آ گئی۔
رشید حسرت — ستمبر 21، 2021 5:17 شام
واہ بھئی واہ۔
میں تو شمشاد بھائی کا نام پڑھ کے آئی تھی اور ایک پیاری سی غزل سامنے آ گئی۔
چلو کسی بہانے ہمیں شرف ِ ملاحظہ تو مِلا۔ بہت شکریہ۔ خوش رہیئے، آباد رہیئے۔
شمشاد — ستمبر 21، 2021 7:39 شام
رشید حسرت صاحب ہو سکے تو اس لڑی کا عنوان تبدیل کر دیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D9%85%D8%B4%D8%A7%D8%AF-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7.117357/