راسخ کشمیری — نومبر 29، 2008 8:27 شام
زین — نومبر 29، 2008 9:13 شام
بہت خوب، زبردست
شکریہ
جیا راؤ — نومبر 29، 2008 9:14 شام
مسکراہٹ کی بنا لو عادت
بارِ غم دل میں چھپائے رکھنا
بہت خوب۔۔۔ !!
طالوت — نومبر 30، 2008 5:30 صبح
ہمیں اسی چیز کی ضرورت ہے ۔۔
بہت خوب
وسلام
الف نظامی — نومبر 30، 2008 6:32 صبح
واہ!!!
بہت خوب!
محمد وارث — نومبر 30، 2008 8:45 صبح
بہت اچھی غزل ہے آپ کی راسخ صاحب، لا جواب!
راسخ کشمیری — دسمبر 1، 2008 10:56 صبح
آپ سب احباب کا شکریہ
اور جزاکم اللہ خیر
دعاؤں کی درخواست ہے
فائزہ ندیم — دسمبر 1، 2008 1:27 شام
ہمیں اسی چیز کی ضرورت ہے ۔۔
آپ کا اشارہ غزل کی طرف ہے یا صاحبِ غزل کی طرف۔۔۔
فائزہ ندیم — دسمبر 1، 2008 1:29 شام
مناسب غزل لگتی ہے۔ راسخ صاحب کا اور کلام پڑھنے کو ملے تو پتا چلے کیسا لکھتے ہیں
الف عین — دسمبر 1، 2008 3:29 شام
اچھے اشعار ہیں۔ اشعار اس لئے کہ چار اشعار کی غزل نہیں ہوتی۔مزید شعر کہیں۔
اور تصویر میں کیوں ہوسٹ کیا تھا۔
راسخ کشمیری — دسمبر 1، 2008 5:29 شام
مناسب غزل لگتی ہے۔ راسخ صاحب کا اور کلام پڑھنے کو ملے تو پتا چلے کیسا لکھتے ہیں
فائزہ بہن
مہربانی آپ کی
تنقیدی نگاہ سے دیکھکر بتادیں کہ خامیاں کیا ہوںتو ممنون ہوں گا
راسخ کشمیری — دسمبر 1، 2008 5:31 شام
اچھے اشعار ہیں۔ اشعار اس لئے کہ چار اشعار کی غزل نہیں ہوتی۔مزید شعر کہیں۔
اور تصویر میں کیوں ہوسٹ کیا تھا۔
اسے میںنےاپنےعربی بلاگ پر لگایا تھا اور ساتھعربی ترجمہ۔
سوچا لکھنےکی بجائے تصویر ہی پوسٹ کردیتا ہوں
اور۔۔۔
جزاک اللہ خیر
