شوق انتظار

مژگان نم — جنوری 18، 2017 6:15 شام
وہ اک فریب آگہی جو تھا
ترے دام الفت و خواب کا
تری محبتوں کے سراب کا
وہ نہیں رہا
وہ اک دلاسہ دل جو تھا
مری زندگی کی ضمان تھا
ترے وصل کا جو گمان تھا
وہ نہیں رہا
مرے یاس کی سرحدوں پہ
وہ جواک دیا تھا امید کا
تری آہٹوں کی نوید کا
وہ بھی بجھ گیا
وہ جو عہد تھا لاشعور میں
میرے دل سے جو تیرے دل کو تھا
وہ ان کہا سا اک مان بھی
اب بکھر گیا
کہ اب کہ تحت شعور میں
نہ فریب ہے جو تسلی دے
عہد و پیماں کی ضمان میں
نہ کوئ دیا ہے جو جلا رہے
دل مضطرب
دل بے قرار
لو فنا ہوا
شوق انتظار
(مژگاں بونگی)
اَبُو مدین — جنوری 18، 2017 6:19 شام
سوائے اس کے پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ :)
مژگان نم — جنوری 18، 2017 6:23 شام
سوائے اس کے پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ :)
ہا ہا ہا اب کیا تخلص بھی نہ رکھوں اپنا
اَبُو مدین — جنوری 18، 2017 6:26 شام
ہا ہا ہا اب کیا تخلص بھی نہ رکھوں اپنا
میں نے صرف رائے دی ہے۔ آپ کا سوال دہرائے دیتا ہوں، اب کیا رائے بھی نہ دوں؟ :)
مژگان نم — جنوری 18، 2017 6:28 شام
میں نے صرف رائے دی ہے۔ آپ کا سوال دہرائے دیتا ہوں، اب کیا رائے بھی نہ دوں؟ :)
ارے نہیں بخوشی دیں:)
اَبُو مدین — جنوری 18، 2017 6:35 شام
ارے نہیں بخوشی دیں:)
شکریہ۔ :) :) :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D9%88%D9%82-%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%B8%D8%A7%D8%B1.94292/