شوق کا مرحلہ بھی ٹوٹ گیا

سید علی رضوی — دسمبر 22، 2017 9:44 صبح
شوق کا مرحلہ بھی ٹوٹ گیا
ضبط اور ضابطہ بھی ٹوٹ گیا
امن کی فاختہ بھی روٹھ گئی
اس کا وہ گھونسلہ بھی ٹوٹ گیا
چھڑ گئی جنگ دونوں ملکوں میں
خواب اک ناشتہ بھی ٹوٹ گیا
کہکشاں چھوٹتے ہی یادوں کی
وصل کا راستہ بھی ٹوٹ گیا
یاد کی خانقاہ ٹوٹ گئی
سانس کا سلسلہ بھی ٹوٹ گیا
آپ کیوں آگئے ہیں آنکھوں میں
خواب کا رابطہ بھی ٹوٹ گیا
اک مسلسل جمود تھا جس میں
جان وہ واسطہ بھی ٹوٹ گیا
※※※※​
الف عین — دسمبر 22، 2017 10:15 صبح
واہ واہ کیا اچھی غزل ہے،
سید علی رضوی — دسمبر 22، 2017 11:44 صبح
واہ واہ کیا اچھی غزل ہے،
سر سب آپ کی عنایت اور کچھ نہیں آپ کی اصلاح سے ہی یہاں تک پہنچا ہوں بہت بہت شکریہ سر
ریاض حسین — دسمبر 22، 2017 11:47 صبح
چھڑ گئی جنگ دونوں ملکوں میں
خواب اک ناشتہ بھی ٹوٹ گیا
ہئے
عمدہ
سید علی رضوی — دسمبر 23، 2017 4:50 صبح
چھڑ گئی جنگ دونوں ملکوں میں
خواب اک ناشتہ بھی ٹوٹ گیا
ہئے
عمدہ
بہت شکریہ جناب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D9%88%D9%82-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D8%B1%D8%AD%D9%84%DB%81-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%B9%D9%88%D9%B9-%DA%AF%DB%8C%D8%A7.99549/