آصف شفیع — مئی 20، 2009 3:55 شام
ایک چھوٹی سی نظم (احباب کی خدمت میں)
شکستگی
ایک وقت آتا ہے
آدمی محبت میں
ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے
(آصف شفیع)
محمداحمد — مئی 21، 2009 7:33 صبح
آصف شفیع صاحب،
بہت اچھی نظم ہے۔ مختصر اور پُر اثر ۔
آصف شفیع — مئی 21، 2009 8:27 صبح
شکریہ۔ ۔۔۔۔۔ مختصر نظموں میں جامعیت اور اثر پذیری ہی کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
مغزل — مئی 21، 2009 8:28 صبح
بے شک، خوب کہا جناب ، اچھی نظم واہ
عمران شناور — مئی 21، 2009 9:41 صبح
واہ آصف صاحب واہ! شکریہ شیئر کرنے کے لیے
محمد وارث — مئی 21، 2009 5:29 شام
لا جواب، کیا خوب کہا ہے آپ نے آصف صاحب!
ویسے مجھے تو یہ 'اردو ماہیا' لگا ہے

آصف شفیع — مئی 21، 2009 8:23 شام
آپ نے بھی خوب کہا ہے!!!
جیا راؤ — مئی 24، 2009 7:59 شام
ایم اے راجا — مئی 25، 2009 6:06 شام
بہت خوب آصف صاحب، دریا کو کوزہ میں بند کردیا واہ واہ
آصف شفیع — مئی 26، 2009 5:37 شام
بہت خوب آصف صاحب، دریا کو کوزہ میں بند کردیا واہ واہ
بہت شکریہ راجہ صاحب۔ نوازش۔