فاتح — نومبر 22، 2013 4:19 شام
شکوے مِرے بھی سن کبھی اپنے گِلے بھی دیکھ
دیکھ اپنا اختیار ذرا اور مجھے بھی دیکھ
سُن قہقہے ہزار محبت کے باب میں
انجامِ کار لاکھوں کو روتے ہوئے بھی دیکھ
آتش فشانِ ہجر کی غارت گری بجا
تُو آسماں زمین پہ اب ٹوٹتے بھی دیکھ
آنکھوں کے دیپ خواب سے روشن تو کر لیے
تعبیر کے سراب پگھلتے ہوئے بھی دیکھ
مضمونِ وصل کتنی تمناؤں سے پڑھا
حسرت سے ہجر و ریخت کے انشائیے بھی دیکھ
فاتح الدین فاتحؔ
ابن سعید — نومبر 22، 2013 4:20 شام
سید ذیشان — نومبر 22، 2013 4:21 شام
آتش فشانِ ہجر کی غارت گری بجا
تُو آسماں زمین پہ اب ٹوٹتے بھی دیکھ
بہت عمدہ فاتح بھائی۔

محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 22، 2013 4:26 شام
شکوے مِرے بھی سن کبھی اپنے گِلے بھی دیکھ
دیکھ اپنا اختیار ذرا اور مجھے بھی دیکھ
سُن قہقہے ہزار محبت کے باب میں
انجامِ کار لاکھوں کو روتے ہوئے بھی دیکھ
آتش فشانِ ہجر کی غارت گری بجا
تُو آسماں زمین پہ اب ٹوٹتے بھی دیکھ
آنکھوں کے دیپ خواب سے روشن تو کر لیے
تعبیر کے سراب پگھلتے ہوئے بھی دیکھ
مضمونِ وصل کتنی تمناؤں سے پڑھا
حسرت سے ہجر و ریخت کے انشائیے بھی دیکھ
فاتح الدین فاتحؔ
بہت خوب
امیداورمحبت — نومبر 22، 2013 5:09 شام
آنکھوں کے دیپ خواب سے روشن تو کر لیے
تعبیر کے سراب پگھلتے ہوئے بھی دیکھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوبصورت
محمد محبوب — نومبر 22، 2013 5:28 شام
بہت خوب

ماہی احمد — نومبر 22، 2013 5:37 شام
زبردست

صائمہ شاہ — نومبر 22، 2013 5:50 شام
واہ بہت خوب
الف عین — نومبر 23، 2013 4:49 صبح
بہت خوب۔ شکیب جلالی کی مشہور غزل کی زمین میں
عمر سیف — نومبر 23، 2013 7:33 صبح
سُن قہقہے ہزار محبت کے باب میں
انجامِ کار لاکھوں کو روتے ہوئے بھی دیکھ
آتش فشانِ ہجر کی غارت گری بجا
تُو آسماں زمین پہ اب ٹوٹتے بھی دیکھ
بہت خوب ۔۔۔
محمداحمد — نومبر 23، 2013 7:55 صبح
واہ واہ واہ ۔۔۔۔!
بہت ہی خوب غزل ہے فاتح بھائی۔۔۔!
خوشی ہوئی کہ محفل پر آپ نے غزل پیش کی۔ خاکسار کی طرف سے نذرانہ ء تحسین قبول کیجے۔
سید شہزاد ناصر — نومبر 23، 2013 11:32 صبح
تیسری بار اس غزل کو پڑھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کیا تبصرہ کروں
اسی زمین میں شکیب جلالی کی غزل بھی پڑھی ہے فیصلہ نہیں کر سکا کہ یہ خوب تر ہے یا وہ خوب تر ہے
اسی غزل کا تسلسل معلوم ہوتا ہے
وہ روانی وہی کاٹ وہی سادگی وہی ندرتِ خیال کیا کہنے
لطف آ گیا پڑھ کر سمجھ نہیں آ رہی کہ کس شعر کو کوٹ کروں تمام اشعار ہی بلاشبہ حاصل غزل ہیں اور بہت کم شاعروں کو یہ ملکہ حاصل ہوتا ہے کہ غزل کے تمام اشعار
پسند کئے جائیں
اللہ آپ کے قلم کی تابناکی کو اسی طرح قائم رکھے آمین
عینی شاہ — نومبر 23، 2013 12:29 شام
سید شہزاد ناصر — نومبر 23، 2013 12:30 شام
عینی شاہ — نومبر 23، 2013 12:32 شام

میں نے کیا کیا ہے انکل

سید شہزاد ناصر — نومبر 23، 2013 12:35 شام
عینی شاہ — نومبر 23، 2013 12:36 شام
رانا — دسمبر 2، 2013 1:55 صبح
آنکھوں کے دیپ خواب سے روشن تو کر لیے
تعبیر کے سراب پگھلتے ہوئے بھی دیکھ
واہ واہ
فاتح بھائی۔ لاجواب غزل۔

منصور مکرم — دسمبر 2، 2013 2:32 صبح
آنکھوں کے دیپ خواب سے روشن تو کر لیے
تعبیر کے سراب پگھلتے ہوئے بھی دیکھ
یہ تو منطق کی تصور وتصدیق والی بات ہوگئی۔
پشتو میں کہتے ہیں کہ
پہ تصور می زان باچا کرو
چی دہ تصدیق مقام رازی ڈَغَرے خورمہ
منصور مکرم — دسمبر 2، 2013 2:34 صبح
تو کیا سید صاحب کو چار چار نظر آرہے تھے؟
