صحنِ دل میں تماشا کیسا ہے
شور و غل بے تحاشہ کیسا ہے دشتِ کربل میں مردِ مومن نے
عشقِ یزداں تلاشا کیسا ہے ماتمِ عشق ہے بپا ہر سو
بج رہا پھر یہ طاشا کیسا ہے! ذہنِ ویراں نے دستِ لرزاں سے
اک صنم جو تراشا، کیسا ہے؟ کون آیا ہے آج گلشن میں
گل پہ طاری یہ رعشہ کیسا ہے ضربِ غم گر نہیں لگی راجا
دردِ دل بے تحاشہ کیسا ہے
محمد وارث — نومبر 1، 2010 6:28 صبح
ذہنِ ویراں نے دستِ لرزاں سے
اک صنم جو تراشا، کیسا ہے؟ واہ بہت خواب راجا صاحب۔
جیلانی — نومبر 1، 2010 7:01 صبح
اگر یہاں جو کی جگہ کو لکھا جائے تو شعر پر کیا فرق پڑھے گا۔۔۔ یعنی معنی کے اعتبار سے
ذہنِ ویراں نے دستِ لرزاں سے
اک صنم جو تراشا، کیسا ہے؟ ذہنِ ویراں نے دستِ لرزاں سے
اک صنم کو تراشا، کیسا ہے؟
وارث صاحب بہت بہت شکریہ ، کہ آپ کو یہ شعر پسند آیا، میری محنت ٹھکانے لگ گئی ہے۔
ایم اے راجا — نومبر 1، 2010 7:49 صبح
جیلانی صاحب بہت شکریہ، میں یہ جواب آپکو نہیں دے سکتا، اساتذہ سے اپیل ہیکہ وہ یہ جواب دینا فرمائیں، میں صرف اتنا کہنے کی جسارت کروں گا کے اگر جو کی جگہ کو لگایا جائے تو شعر کی تفہیم تبدیل ہو جائے گی۔ مزید اساتذہ کرام سے درخواست ہے۔
الف عین — نومبر 2، 2010 4:55 صبح
جیلانی، تمہارے مشورے میں تو ’کو‘ بھرتی کا نہیں لگ رہا؟ ان معنوں میں بغیر ’کو‘ کے بھی مطلب نکل جاتا ہے۔ ‘اک صنم تراشا‘ کافی ہے، یہی درست محاورہ ہے۔ ’صنم کو تراشا‘ نہیں۔ ’جو‘ ہی بپتر ہے کہ وزن کی ضرورت کو بھی پوری کرتا ہے اور محض بھرتی کا بھی نہیں لگتا۔
الف عین — نومبر 2، 2010 4:56 صبح
جیلانی سے ایک بات اور۔ اس قسم کے مشورے اصلاحِ سخن کی فورم میں دینا چاہئے تھا، اس قسم کی گفتگو وہاں بہتر ہے
ایم اے راجا — نومبر 2، 2010 12:02 شام
بہت شکریہ استادِ محترم، اور وارث صاحب۔
محمداحمد — نومبر 2، 2010 1:05 شام
بہت خوب راجہ بھائی، کافی عرصے کے بعد آپ کا کلام پڑھنے کو ملا۔ ماشاءاللہ غزل بہت اچھی ہے۔ داد قبول کیجے۔
ایم اے راجا — نومبر 2، 2010 3:13 شام
جی بہت شکریہ، محمد احمد صاحب، اور مزید شکریہ کہ بندہ آپکو ابھی یاد ہے۔