ضبط غم ہاتھ سے چلا جائے

حسیب احمد حسیب — فروری 17، 2016 2:56 شام
غزل
ضبط غم ہاتھ سے چلا جائے
یہ بهرم ہاتھ سے چلا جائے
صدقئہ جاں قبول ہو کہ نہیں
کم سے کم ہاتھ سے چلا جائے
بوجھ بھاری ہے میرے ہاتھوں میں
ہو کرم ہاتھ سے چلا جائے
میں ہتهیلی پہ جان رکهتا ہوں
میرا دم ہاتھ سے چلا جائے
تهوڑا تهوڑا لٹائینگے کب تک
ایکدم ہاتھ سے چلا جائے


وقت کو تھامنے کی کوشش میں
دم بہ دم ہاتھ سے چلا جائے
بت پرستی کی آبرو نہ رہے
جو صنم ہاتھ سے چلا جائے
جو قدم بھی اٹھا تری جانب
وہ قدم ہاتھ سے چلا جائے
ہم تعلق نبهائینگے کب تک
محترم ! ہاتھ سے چلا جائے
حسیب احمد حسیب
ربیع م — فروری 17، 2016 3:00 شام
بہت عمدہ ماشاءاللہ
حسیب احمد حسیب — فروری 18، 2016 8:19 شام
چند اشعار کا اضافہ
حسیب احمد حسیب — فروری 18، 2016 8:20 شام
زلف برہم سنوارتے ہیں ہم
پیچ و خم ہاتھ سے چلا جائے​
حسیب احمد حسیب — فروری 18، 2016 8:21 شام
کاسئہ عشق کی تلاش میں ہوں
جام جم ہاتھ سے چلا جائے​
حسیب احمد حسیب — فروری 18، 2016 8:21 شام
غم زمانے کے مل گئے مجھ کو
تیرا غم ہاتھ سے چلا جائے​
حسیب احمد حسیب — فروری 18، 2016 8:21 شام
یار تو فقر کا حقیقی ہے
پر شکم ہاتھ سے چلا جائے​
کاشف اختر — فروری 20، 2016 1:55 شام
بہت خوب !
محمد تابش صدیقی — فروری 23، 2016 10:55 صبح
بہت خوب، حسیب بھائی
وقت کو تھامنے کی کوشش میں
دم بہ دم ہاتھ سے چلا جائے

غم زمانے کے مل گئے مجھ کو
تیرا غم ہاتھ سے چلا جائے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B6%D8%A8%D8%B7-%D8%BA%D9%85-%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE-%D8%B3%DB%92-%DA%86%D9%84%D8%A7-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92.88056/