ضربِ وقت

محمد ریحان قریشی — فروری 21، 2021 9:32 شام
چار برس گزر گئے
کیسے عجیب حال میں
کش مکشوں کے جال میں
بے کسیِ کمال میں
جان کے اک وبال میں
اپنے فقط خیال میں
دل کی برآمدات میں
کوئی امید ہی نہیں
فکر کے حادثات میں
ایک نوید بھی نہیں
زیست کے اس مقام پر
راہ تو ہے سفر نہیں
قافلے رہ زنوں کے ہیں
اور کوئی راہبر نہیں
اپنے سوا نصیب میں
کوئی بھی ہم سفر نہیں
اس پہ ملال دیکھیے
سوزشِ ممکنات کا
وقت کی ضربِ تند خو
وقت کی ضربِ آتشیں
کیسے تراشتی گئی
میرا وجودِ ظاہری
میرا وجودِ باطنی
مطلقاً اس کے برخلاف
جو کہ یہاں تھا معتبر
پھر بھی خدا کا شکر ہے
اس پہ کہ جو ملا ہمیں
کتنے ہی لوگ دہر میں
اس سے بھی خستہ حال ہیں
پر ہمیں یہ بتائیے
اس میں قصور کس کا ہے؟
محمد تابش صدیقی — فروری 22، 2021 5:54 صبح
خوب پیرایۂ اظہار ہے ریحان بھائی۔
عاطف ملک — فروری 22، 2021 1:50 شام
خوب ہے ریحان بھائی۔۔۔۔بہت اچھا کہا
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 23، 2021 6:42 شام
اچھی نظم ہے ریحانؔ صاحب، ماشاء اللہ
مگر ایک بات ذہن میں اٹک رہی ہے
چار برس کی کیا معنویت ہے؟ کیا یونیورسٹی سے تازہ تازہ تخرج ہوا ہے؟ :)
محمد ریحان قریشی — فروری 23، 2021 7:52 شام
اچھی نظم ہے ریحانؔ صاحب، ماشاء اللہ
ذرہ نوازی ہے آپ کی احسن بھائی۔
چار برس کی کیا معنویت ہے؟ کیا یونیورسٹی سے تازہ تازہ تخرج ہوا ہے؟
آپ کا قیاس درست ہے. تخرج ابھی ہوا تو نہیں مگر آخری سمیسٹر شروع ہو چکا ہے۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 23، 2021 7:53 شام
ذرہ نوازی ہے آپ کی احسن بھائی۔
آپ کا قیاس درست ہے. تخرج ابھی ہوا تو نہیں مگر آخری سمیسٹر شروع ہو چکا ہے۔
اللہ پاک آپ ہو کامیابی سے ہمکنار فرمائے، آمین.

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B6%D8%B1%D8%A8%D9%90-%D9%88%D9%82%D8%AA.115257/