ذوالفقار نقوی — جولائی 30، 2014 10:13 صبح
طبیعت کوئی ٹونا کر گئی ہے
مجھے خود کا نشانہ کر گئی ہے
خرد کا بهی ہے اک طُرفہ تماشا
مخالف سب زمانہ کر گئی ہے
سمجھتا ہوں زباں اِن پتھروں کی
مجھے مٹی سیانا کر گئی ہے
جو اک تصویر محو ِ گفتگو تهی
وہ پتهر میں ٹهکانا کر گئی ہے
غلاف ِ تیرگی میں ہیں صحیفے
سیاہی باب کانا کر گئی ہے
ذوالفقار نقوی
ذوالفقار نقوی — جولائی 30، 2014 10:21 صبح
سلمان حمید — جولائی 30، 2014 11:33 صبح
بہت عمدہ نقوی صاحب

الف عین — جولائی 30، 2014 12:30 شام
بہت خوب
سید عاطف علی — جولائی 30، 2014 1:14 شام
جو اک تصویر محو ِ گفتگو تهی
وہ پتهر میں ٹهکانا کر گئی ہے
بہت ہی خوب نقوی صاحب ۔ پتھر میں ٹھکانا ۔ گویا یہاں الماس جڑ دیا گیا ہو ۔ واہ وا
ذوالفقار نقوی — جولائی 30، 2014 2:39 شام
بہت عمدہ نقوی صاحب
ممنون ہوں
سلمان حمید صاحب
ذوالفقار نقوی — جولائی 30، 2014 2:41 شام
عالی جناب
الف عین صاحب: یقیناََ یہ میری حوصلہ افزائی ہے
ذوالفقار نقوی — جولائی 30، 2014 2:42 شام
جو اک تصویر محو ِ گفتگو تهی
وہ پتهر میں ٹهکانا کر گئی ہے
بہت ہی خوب نقوی صاحب ۔ پتھر میں ٹھکانا ۔ گویا یہاں الماس جڑ دیا گیا ہو ۔ واہ وا
جناب
سید عاطف علی صاحب۔۔۔برادرم بہت شکریہ
جاسمن — جولائی 9، 2020 3:43 صبح
بہت خوب!
ذوالفقار نقوی — جولائی 8، 2021 7:40 صبح
السلام علیکم
مدیران صاحبان سے گزارش ہے کہ تدوین کا آپشن کھلا رکھیں تاکہ ترمیم کے گئے کلام کو درست کیا جا سکے.. مہربانی ہوگی