طرحی غزل

سعید سعدی — ستمبر 20، 2017 10:41 صبح
ہر ایک بات میں تیرا ہی تذکرہ نکلا
ترا خیال مرے دل میں جا بجا نکلا
کوئی فصیل بھی تو درمیاں نہ تھی اپنے
مگر وہ فاصلہ صدیوں کا فاصلہ نکلا
مرے تمام حوالے بھی اجنبی نکلے
مرے مزاج کا اک تو ہی آشنا نکلا
تمام عمر گزاری ہے رہ نوردی میں
جو راستہ بھی ملا ایک دائرہ نکلا
ہوئی نہ جیت کسی کی نہ کوئی مات ہوئی
جنون کا وہ خرد سے معاملہ نکلا
عجیب لوگ تھے سعدی خدا کی بستی کے
"کوئی خدا کوئی ہمسایۂِ خدا نکلا"
الف عین — ستمبر 21، 2017 5:53 شام
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے۔ ’سمت‘ کے لیے رکھ لوں؟
سعید سعدی — ستمبر 22، 2017 10:55 صبح
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے۔ ’سمت‘ کے لیے رکھ لوں؟
بہت شکریہ آپ کی پسندیدگی کا.... اور "سمت" کے لیے یہ غزل بالکل حاضر ہے...
اسد اقبال — اکتوبر 23، 2017 9:54 صبح
کیا کہنے بہت خوب سعدی بھائی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B7%D8%B1%D8%AD%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84.98329/