سعید سعدی — ستمبر 26، 2017 8:21 صبح
ہم نوا کی خبر نہیں ملتی
گر ملے معتبر نہیں ملتی
بخش دے نور ظلمتوں کو مری
ایسی روشن سحر نہیں ملتی
بادِ صرصر ہی بس نصیب میں ہے
"اب نسیمِ سحر نہیں ملتی"
زندگی کے سراب میں گم ہوں
مجھ کو اپنی خبر نہیں ملتی
ہیں سبھی خواہشات کے قیدی
کوئی صورت دگر نہیں ملتی
زندگی موت کے حصار میں ہے
کوئی راہِ مفر نہیں ملتی
اک عجب بے حسی کا عالم ہے
اب کوئی چشم تر نہیں ملتی
ہم خوشی کی تلاش میں سعدی
ہوگئے دربدر نہیں ملتی
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 27، 2017 3:46 صبح
بہت خوب۔ داد قبول فرمائیے
محمد وارث — ستمبر 27، 2017 3:47 صبح
اک عجب بے حسی کا عالم ہے
اب کوئی چشم تر نہیں ملتی
لاجواب، واہ واہ!
عظیم — ستمبر 27، 2017 3:48 صبح
معاف کیجیے گا سعید سعدی صاحب ۔ مطلع میں ایطا ہے ۔ خبر اور معتبر میں 'بر' کی تکرار ہے ۔ آپ ماشاء اللہ اچھا لکھتے ہیں ۔ کیا کسی استاد کو بھی دکھاتے ہیں اپنا کلام ؟
محمد تابش صدیقی — ستمبر 27، 2017 4:16 صبح
لاجواب سعدی صاحب
زندگی کے سراب میں گم ہوں
مجھ کو اپنی خبر نہیں ملتی
ہیں سبھی خواہشات کے قیدی
کوئی صورت دگر نہیں ملتی
زندگی موت کے حصار میں ہے
کوئی راہِ مفر نہیں ملتی
اک عجب بے حسی کا عالم ہے
اب کوئی چشم تر نہیں ملتی
سعید سعدی — ستمبر 27، 2017 8:46 صبح
بہت خوب۔ داد قبول فرمائیے
پسندیدگی کے لئے شکر گزار ہوں
سعید سعدی — ستمبر 27، 2017 8:46 صبح
پسندیدگی کے لئے شکر گزار ہوں
سعید سعدی — ستمبر 27، 2017 9:34 صبح
معاف کیجیے گا سعید سعدی صاحب ۔ مطلع میں ایطا ہے ۔ خبر اور معتبر میں 'بر' کی تکرار ہے ۔ آپ ماشاء اللہ اچھا لکھتے ہیں ۔ کیا کسی استاد کو بھی دکھاتے ہیں اپنا کلام ؟
جی بجا فرمایا ... میں تبدیل کرتا ہوں ان شاء اللہ... توجہ دلانے کے لیے شکرگزار ہوں
لئیق احمد — ستمبر 27، 2017 10:45 صبح
بہت اعلی - ماشاءاللہ
سعید سعدی — ستمبر 27، 2017 11:02 صبح
پسندیدگی کے لئے شکر گزار ہوں
سعید سعدی — ستمبر 27، 2017 11:02 صبح
پسندیدگی کے لئے شکر گزار ہوں
عرفان سعید — ستمبر 27، 2017 12:10 شام
بہت خوب! ماشاءاللہ
سعید سعدی — ستمبر 27، 2017 9:26 شام
پسندیدگی کے لئے شکر گزار ہوں
اسد اقبال — اکتوبر 23، 2017 9:50 صبح
بہت خوب سعدی بھائی