طلوع سحر

بدر — ستمبر 18، 2006 5:39 صبح
السلام علیکم ! تمام اہلیان محفل کو میرا سلام۔ آج پہلی با آپ کی محفل میں‌ آنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ امید ہے آپ لوگ خوش آمدید کہیں گے۔ شکریہ :p
ابتدا اپنی ایک نظم سے کروں‌گا۔آپ سب کے تبصرے کا انتظار رہے گا۔
طلوع سحر
(اپنی قوم کے نوجوانوں کے لیے)
تری منزل طلوع ِسحر ہے غافل
تو تاریکئ رات پہ اکتفا نہ کر
ملا تو ہے پروردا ئے اہل حکم
مُلا کی کسی بات پہ اکتفا نہ کر
اپنی ذات میں اندازِ سحاب کر پیدا
مانگی ہوئی برسات پہ اکتفا نہ کر
فاقہ مستی بہتر ہے خوّان قیود سے
یوں غیروں کی خیرات پہ اکتفا نہ کر
چھین لے رہزن سے زمام کارواں
لٹیروں کی سادات پہ اکتفا نہ کر
کبھی مقصود زہد بھی سمجھ اے زاہد
فقط شمار رکعات پہ اکتفا نہ کر
کچھ کر تدارک اپنے تنگ ایام کا
ان رواں حالات پہ اکتفا نہ کر
قیصرانی — ستمبر 18، 2006 10:09 صبح
بہت خوب بدر۔ بہت عمدہ نمونہ کلام پیش کیا ہے۔ اگر کچھ مزید اپنے بارے میں‌ بتانا چاہیں‌ :)
اور ہاں
خوش آمدید​
دوست — ستمبر 18، 2006 10:25 صبح
خوش آمدید بدر جی۔
اچھی نظم پوسٹ کی ہے آپ نے۔
پسند آئی۔
اپنا تعارف بھی کروا دیں تعارف کی چوپال میں۔
مریم افتخار — جولائی 7، 2018 10:21 صبح
مانگی ہوئی برسات پہ اکتفا نہ کر
بہت خوب!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B7%D9%84%D9%88%D8%B9-%D8%B3%D8%AD%D8%B1.4106/