ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

اسد قریشی — اکتوبر 15، 2012 9:05 صبح
کس کو پڑی ہے طور پہ جایا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدہ دل وا کرے کوئی
اک تیرِنیم کش کہ ترازو نہ ہو سکا
آتی ہے کیسے سانس نہ پوچھا کرے کوئی
الفت میں تیری خود کو فنا کر گئے ہیں ہم
ہو عشق گر تو اس سے زیادہ کرے کوئی
فرصت کہاں ہے مجھ کو جو اک سانس لے سکوں
ایسے کسی کو یاد نہ آیا کرے کوئی
موجیں تو ٹوٹ جاتی ہیں ساحل پہ آتے ہی
طوفاں میں کشتیوں کو اتارا کرے کوئی
محرم تھا، آشنا تھا، گیا چھوڑ کر مجھے
اب وحشتوں میں کس کو پکارا کرے کوئی
پتھرا رہی ہیں آنکھیں تری راہ دیکھتے
اتنا بھی انتظار نہ دیکھا کرے کوئی
دکھتے نہیں ہیں زخم دلِ صد فگار کے
"ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی"
اب تک نہ آیا تم کو اسد شاعری کا ڈھب
دل کی زباں سے دل پہ ہی لکھا کرے کوئی
اسد​
اسامہ جمشید — اکتوبر 15، 2012 10:47 صبح
بہت خوب
الف عین — اکتوبر 16، 2012 4:52 صبح
بہت خوب اسد، ہم تخلص بھی خوش ہوئے ہوں گے۔ ’انتطار دیکھنا‘ بہت عرصے بعد پڑھنے کو ملا۔
حمید — اکتوبر 16، 2012 6:50 صبح
عمدہ
اسد قریشی — اکتوبر 16، 2012 7:18 صبح
بہت خوب اسد، ہم تخلص بھی خوش ہوئے ہوں گے۔ ’انتطار دیکھنا‘ بہت عرصے بعد پڑھنے کو ملا۔

بہت نوازش! قبلہ کیا 'انتظار دیکھنا' کا استعمال مناسب نہیں ؟
اُسامہ جمشید صاحب اور حمید صاحب آپ دونوں صاحبان کا بہت شکریہ
حمید — اکتوبر 16، 2012 7:35 صبح
اتنا نہ انتظار کرایا کرے کوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ہو سکتا ہے سہولت سے؟
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 16، 2012 6:18 شام
’انتطار دیکھنا‘ بہت عرصے بعد پڑھنے کو ملا۔

بہت نوازش! قبلہ کیا 'انتظار دیکھنا' کا استعمال مناسب نہیں ؟
ہمارا خیال ہے کہ استادِ محترم نے اس استعمال کو پسند فرمایا ہے۔
الف عین — اکتوبر 17، 2012 3:40 صبح
استعمال تو پسند آیا، خلیل کی بات درست ہے۔ لیکن آج کل استعمال نہیں کیا جاتا، اس لئے اجنبی سا لگا۔
اسد قریشی — اکتوبر 17، 2012 6:11 صبح
حمید صاحب اور بھائی
محمد خلیل الرحمٰن
بہت نوازش!
قبلہ اعجاز عُبید صاحب! اگر استعمال آپ کو پسند آیا تو پھر اس کو شامل کر ہی لیتے ہیں۔ بہت نوازش!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE-%D8%B3%DB%92-%D9%86%DB%81-%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7-%DA%A9%D8%B1%DB%92-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C.55405/