عبد اور تکبّر ! کہیں چریا تو نہیں ہے ؟-----------غزل

یاسر شاہ — اپریل 19، 2019 7:36 شام
السلام علیکم -
چند تکبندیاں پیش خدمت ہیں -آپ کی تنقید اور بیلاگ تبصروں کا منتظر-
غزل
گردن میں او یاسر تری سریا تو نہیں ہے ؟
عبد اور تکبّر ! کہیں چریا تو نہیں ہے ؟
دل صورتِ پنجاب رہا کرتا ہے آب آب
خشک آنکھ کہیں سندھ کا دریا تو نہیں ہے ؟
دل میرا وہ گھر ہے کہ جہاں ایک کی ہے جا
بستی کوئی ،گاؤں کوئی،قریہ تو نہیں ہے
حیرت سے افق پر جسے تکتے ہو ،دھنک ہے
اُس حور شمائل کی چنریا تو نہیں ہے
ہم نے تو محبّت میں مویشی بھی چرائے
اور یہ بھی سنا شؔاہ گڈریا تو نہیں ہے ؟
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 20، 2019 5:16 صبح
دل میرا وہ گھر ہے کہ جہاں ایک کی ہے جا
بستی کوئی ،گاؤں کوئی،قریہ تو نہیں ہے
یاسر بھائی بہت عمدہ غزل ہے،
یہ شعر تو ہمیں اس غزل کا شعر اکبر محسوس ہوا ۔
مریم افتخار — اپریل 20، 2019 5:44 صبح
عمدہ کلام ہے محترمی!
منیب الف — اپریل 20، 2019 6:51 صبح
وعلیکم السلام!
گردن میں او یاسر تری سریا تو نہیں ہے ؟
عبد اور تکبّر ! کہیں چریا تو نہیں ہے ؟
خود کو سمجھانے کا نرالا ڈھنگ ہے۔
دل صورتِ پنجاب رہا کرتا ہے آب آب
خشک آنکھ کہیں سندھ کا دریا تو نہیں ہے ؟
آج کل پنجاب خشک ہے، آب آب نہیں۔
البتہ اس شعر سے معلوم ہوا کہ ان دنوں سندھ بھی خشک ہے۔
دل میرا وہ گھر ہے کہ جہاں ایک کی ہے جا
بستی کوئی ،گاؤں کوئی،قریہ تو نہیں ہے
اتنی بھی تنگ دلی کیا، دو تین کا انتظام تو ہونا چاہیے
جوکنگ :smile-big:
حیرت سے افق پر جسے تکتے ہو، دھنک ہے
اُس حور شمائل کی چنریا تو نہیں ہے
آپ نے کہا دھنک ہے، حور شمائل کی چنریا نہیں ہے۔
لیکن حور شمائل کی چنریا ہے، یہ کس نے کہا ہے؟
یہ آپ نے مخاطب کی جانب سے فرض کیا اور پھر خود ہی رد کر دیا۔
اتنا گھماؤ پھیراؤ کس لیے؟
ہم نے تو محبّت میں مویشی بھی چرائے
اور یہ بھی سنا شؔاہ گڈریا تو نہیں ہے ؟
یہ سچ ہے کہ جھوٹ؟
مجھے نہیں لگتا آپ نے کبھی محبت کی وجہ سے مویشی چرائے ہوں گے۔
ایسی قافیہ پیمائی چھوڑ دیں۔
یاسر شاہ — اپریل 20، 2019 8:49 صبح
یاسر بھائی بہت عمدہ غزل ہے،
یہ شعر تو ہمیں اس غزل کا شعر اکبر محسوس ہوا ۔

السلام علیکم ! نقیبی بھائی
آپ ہمیشہ حوصلہ افزائی فرماتے ہیں -جزاک اللہ -آپ لوگوں کی کراچی کی دعوتوں میں شریک نہیں ہوتا کہ واپسی میں کون بیگم کو زحمت دے کہ مجھ پر رقیہ کا دم کرتی رہے -آپ جیسے کشادہ دل و نظر کے لیے لگتا ہے گھر پر ضیافت کا اہتمام کرنا پڑے گا -کتنی مرغیاں کافی ہوجائیں گی ؟(مذاق کے علاوہ )
اللہﷻ آپ کی سب بگڑیاں بنا دے آمین
یاسر شاہ — اپریل 20، 2019 8:50 صبح
عمدہ کلام ہے محترمی!
مریم صاحبہ اس ذرّہ نوازی پہ آپ کا ممنون ہوں - اللہﷻ آپ کو خوش و خرم رکھے -آمین
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 20، 2019 8:54 صبح
السلام علیکم ! نقیبی بھائی
آپ ہمیشہ حوصلہ افزائی فرماتے ہیں -جزاک اللہ -آپ لوگوں کی کراچی کی دعوتوں میں شریک نہیں ہوتا کہ واپسی میں کون بیگم کو زحمت دے کہ مجھ پر رقیہ کا دم کرتی رہے -آپ جیسے کشادہ دل و نظر کے لیے لگتا ہے گھر پر ضیافت کا اہتمام کرنا پڑے گا -کتنی مرغیاں کافی ہوجائیں گی ؟(مذاق کے علاوہ )
اللہﷻ آپ کی سب بگڑیاں بنا دے آمین
بھائی اللہ کریم آپ کی محبتیں سلامت رکھیں ۔آمین
صحبت یار سلامت رہے ،ان شاء اللہ دعوتوں کا یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا ۔
آپ کا ضیافت پر اردو محفل کے کراچی سے وابستہ محفلین کو مدعو کرنا ہم سب کے لیے بہت اعزاز کی بات ہے ۔
محمداحمد — اپریل 20، 2019 8:56 صبح
بہت خوب!
گردن میں او یاسر تری سریا تو نہیں ہے ؟
عبد اور تکبّر ! کہیں چریا تو نہیں ہے ؟

یاسر
اور
سریا
خوب ہے۔ :)
دل صورتِ پنجاب رہا کرتا ہے آب آب
خشک آنکھ کہیں سندھ کا دریا تو نہیں ہے ؟

واہ!
لگتا ہے ہماری طرح آپ نے بھی دریائے سندھ کا آنکھوں دیکھا حال خوب دیکھ رکھا ہے۔ :) :) :)
یاسر شاہ — اپریل 20، 2019 8:57 صبح
وعلیکم السلام!
خود کو سمجھانے کا نرالا ڈھنگ ہے۔
آج کل پنجاب خشک ہے، آب آب نہیں۔
البتہ اس شعر سے معلوم ہوا کہ ان دنوں سندھ بھی خشک ہے۔
اتنی بھی تنگ دلی کیا، دو تین کا انتظام تو ہونا چاہیے
جوکنگ :smile-big:

آپ نے کہا دھنک ہے، حور شمائل کی چنریا نہیں ہے۔
لیکن حور شمائل کی چنریا ہے، یہ کس نے کہا ہے؟
یہ آپ نے مخاطب کی جانب سے فرض کیا اور پھر خود ہی رد کر دیا۔
اتنا گھماؤ پھیراؤ کس لیے؟
یہ سچ ہے کہ جھوٹ؟
مجھے نہیں لگتا آپ نے کبھی محبت کی وجہ سے مویشی چرائے ہوں گے۔
ایسی قافیہ پیمائی چھوڑ دیں۔

بھائی سواد آگیا آپ کا تبصرہ پڑھ کے -جب تک ابے تبے، تو تڑاک نہ ہو ،کیا لطف دوستی کا ؟-کیا "اینٹی منافقت " تبصرہ ہے، مگر ڈھنگ کی ایک بات نہیں -
آپ نے کہا دھنک ہے، حور شمائل کی چنریا نہیں ہے۔
لیکن حور شمائل کی چنریا ہے، یہ کس نے کہا ہے؟
یہ آپ نے مخاطب کی جانب سے فرض کیا اور پھر خود ہی رد کر دیا۔
اتنا گھماؤ پھیراؤ کس لیے؟
شعر کا مطلب یہ ہےچچا کہ دھنک کو اتنی حیرت سے کیا دیکھتے ہو یہ کوئی "اس" کی چنریا تو نہیں ہے -
یہ سچ ہے کہ جھوٹ؟
مجھے نہیں لگتا آپ نے کبھی محبت کی وجہ سے مویشی چرائے ہوں گے۔
ایسی قافیہ پیمائی چھوڑ دیں۔
ہاں یار آپ نے خوب پہچانا 'کبھی مویشی نہیں چرائے لیکن ایک حسرت ہے کہ چرائے جائیں -اب خدا جانے یہ حسرت کب پوری ہو گی کہ ہم تو ہو گئے مہاجر اور ابا اور چچاؤں نے گاؤں بیچ کھایا -
یہاں مراد لوگوں کے تبصرے ہیں کہ نیا دور ہے، اتنا ہی سنّت سے عشق ہے تو گاڑیاں کیوں استعمال کرتے ہو 'نوکری کیوں کرتے ہو 'اونٹ استعمال کرو 'مویشی چراؤ وغیرہ وغیرہ
رہی قافیہ پیمائی تو ایک شعر اس چکّر میں رد کر دیا کہ مضمون بھی فحش تھا اور محض قافیہ پیمائی تھی -دوسرا مصرع دیکھیے :
:ہرچند کہ کمرہ ہے کمریا تو نہیں ہے :
اس کے علاوہ "گریہ " کا قافیہ بھی ہو سکتا تھا اگر ضرورت شعری کے تحت گاف کو مفتوح باندھتا -بھائی کاغذ قلم لے کے بیٹھتا تو ہوں نہیں کہ جوڑ توڑ کر کے شعر بناؤں -چلتے پھرتے شعر خود ہو جاتا ہے اور آستین سے پکڑ کے کہتا ہے کہ مجھے لکھو تو لکھ دیتا ہوں -
بھائی آئندہ بھی ایسے تبصرے ہی کیجیے گا مگر کوئی ڈھنگ کی بات بھی کر دیجیے گا:p -جزاک اللہ
محمداحمد — اپریل 20، 2019 8:57 صبح
آپ لوگوں کی کراچی کی دعوتوں میں شریک نہیں ہوتا کہ واپسی میں کون بیگم کو زحمت دے کہ مجھ پر رقیہ کا دم کرتی رہے

یاسر بھائی!
یہ رقیہ کا دم کیا ہوتا ہے؟
سروش — اپریل 20، 2019 8:59 صبح
یہ رقیہ کا دم کیا ہوتا ہے؟
آیات کا دم، خصوصاً سورۃ فاتحہ کا دم جس کو نبی کریم ﷺ نے "رقیہ" کہا
محمداحمد — اپریل 20، 2019 9:03 صبح
مگر ڈھنگ کی ایک بات نہیں -

ساری باتیں تو خیر بے ڈھنگی نہیں ہیں۔ :eek:
آپ شاید "غزل" کی محبت میں یہ بات کر گئے ہیں۔ :) :)
سید عمران — اپریل 20، 2019 9:04 صبح
السلام علیکم -
چند تکبندیاں پیش خدمت ہیں -آپ کی تنقید اور بیلاگ تبصروں کا منتظر-
غزل
گردن میں او یاسر تری سریا تو نہیں ہے ؟
عبد اور تکبّر ! کہیں چریا تو نہیں ہے ؟
دل صورتِ پنجاب رہا کرتا ہے آب آب
خشک آنکھ کہیں سندھ کا دریا تو نہیں ہے ؟
دل میرا وہ گھر ہے کہ جہاں ایک کی ہے جا
بستی کوئی ،گاؤں کوئی،قریہ تو نہیں ہے
حیرت سے افق پر جسے تکتے ہو ،دھنک ہے
اُس حور شمائل کی چنریا تو نہیں ہے
ہم نے تو محبّت میں مویشی بھی چرائے
اور یہ بھی سنا شؔاہ گڈریا تو نہیں ہے ؟
بہت خوب اشعار ۔۔۔
اور یہ بھی بہت خوب خبر کہ آپ اہل کراچی ہیں۔۔۔
آج ہی معلوم ہوا۔۔۔
اب تو دعوت میں آپ کی عدم شرکت پر ناراضگی بنتی ہے!!!
:arrogant::arrogant::arrogant:
یاسر شاہ — اپریل 20، 2019 10:05 صبح
ساری باتیں تو خیر بے ڈھنگی نہیں ہیں۔ :eek:
آپ شاید "غزل" کی محبت میں یہ بات کر گئے ہیں۔ :) :)

نہیں احمد بھائی ان کی باتیں تو بہت عزیز ہیں مجھے -یہ تو محض تفریح طبع کے لیے لکھا تھا -
چھیڑتا ہوں کہ ان کو غصہ آئے
کیوں رکھوں ورنہ غالبؔ اپنا نام
اگر غزل سے محبّت ہوتی تو ایک مہینہ اس تبصرے کو ہضم کرنے میں لگا دیتا اور بعد میں لکھتا کہ قبض تخیّل کی وجہ سے کچھ نہ لکھ پایا اور نہ ریٹنگ دی -:-(
آپ ویسے اپنی پچ پر کھیلیے -کوئی سنجیدہ تجزیہ کیجیے یا ان کی کونسی بات سے متفق ہیں -فرمائیے -:)
منیب الف — اپریل 20، 2019 10:18 صبح
شعر کا مطلب یہ ہے ’چچا‘
:heehee:
کہ دھنک کو اتنی حیرت سے کیا دیکھتے ہو یہ کوئی "اس" کی چنریا تو نہیں ہے -
لیکن کسی کی چنریا کو حیرت سے کون دیکھتا ہے؟
یہاں مراد لوگوں کے تبصرے ہیں کہ نیا دور ہے، اتنا ہی سنّت سے عشق ہے تو گاڑیاں کیوں استعمال کرتے ہو 'نوکری کیوں کرتے ہو 'اونٹ استعمال کرو 'مویشی چراؤ وغیرہ وغیرہ
مراد اچھی ہے لیکن صرف شعر پڑھنے سے میرے ذہن میں اس کی صورت نہیں بن رہی۔
دو تین بار پڑھوں گا۔ شاید سمجھ جاؤں۔
بھائی آئندہ بھی ایسے تبصرے ہی کیجیے گا مگر کوئی ڈھنگ کی بات بھی کر دیجیے گا
باتیں ہماری ساری بےڈھنگیاں ہیں وے ہی
بوڑھے ہوئے پہ ہم کو اب تک نہ ڈھنگ آیا
محمداحمد — اپریل 20، 2019 10:19 صبح
نہیں احمد بھائی ان کی باتیں تو بہت عزیز ہیں مجھے -یہ تو محض تفریح طبع کے لیے لکھا تھا -
چھیڑتا ہوں کہ ان کو غصہ آئے
کیوں رکھوں ورنہ غالبؔ اپنا نام

اچھی بات ہے۔ :)
اگر غزل سے محبّت ہوتی تو ایک مہینہ اس تبصرے کو ہضم کرنے میں لگا دیتا اور بعد میں لکھتا کہ قبض تخیّل کی وجہ سے کچھ نہ لکھ پایا اور نہ ریٹنگ دی -:-(

ہاہاہاہا۔۔!
چلیے اس بہانے یہ بات بھی ہو ہی گئی۔ :) :) :)
بڑے شرارتی ہو گئے ہیں آپ۔ :)
آپ ویسے اپنی پچ پر کھیلیے -کوئی سنجیدہ تجزیہ کیجیے یا ان کی کونسی بات سے متفق ہیں -فرمائیے -:)

نہیں بھئی!
یہ تنقید والا کام ہمارا ہے ہی نہیں ۔ سو ہمارا آگے کھیلنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ :)
یاسر شاہ — اپریل 20، 2019 11:24 صبح
:heehee:
لیکن کسی کی چنریا کو حیرت سے کون دیکھتا ہے؟
مراد اچھی ہے لیکن صرف شعر پڑھنے سے میرے ذہن میں اس کی صورت نہیں بن رہی۔
دو تین بار پڑھوں گا۔ شاید سمجھ جاؤں۔
باتیں ہماری ساری بےڈھنگیاں ہیں وے ہی
بوڑھے ہوئے پہ ہم کو اب تک نہ ڈھنگ آیا

غزل گئی تیل لینے -آپ کراچی آئیے آپ کو سیر کرائیں -سمندر گھمائیں، اونٹ پر بٹھائیں -
یہ ہم نے مانا کہ پنجاب میں ہیں دریا پانچ
لہور والو سمندر کہاں سے لاؤ گے ؟ :p
فلسفی — اپریل 20، 2019 12:20 شام
یہ ہم نے مانا کہ پنجاب میں ہیں دریا پانچ
لہور والو سمندر کہاں سے لاؤ گے ؟ :p
شاہ جی گستاخی معاف :)
مانا کہ ہے سمندر، دریا سے بڑھ کے یاروں
لیکن ہے دل میں وسعت، لاہوریوں کا خاصا
یاسر شاہ — اپریل 20، 2019 12:33 شام
جی وہ تو یہاں نظر آ ہی رہی ہے -
منیب الف — اپریل 20، 2019 2:01 شام
غزل آپ کی اچھی ہے۔
ہم تو منطقی تیغ زنی کر رہے تھے۔
آپ کراچی آئیے آپ کو سیر کرائیں -سمندر گھمائیں، اونٹ پر بٹھائیں -
یہ ہم نے مانا کہ پنجاب میں ہیں دریا پانچ
لہور والو سمندر کہاں سے لاؤ گے ؟ :p
ضرور!
ویسے ایک بات ہے۔
آپ کا تبصرہ پڑھنے سے پہلے دوپہر کے وقت کچھ دیر کے لیے لیٹا تو خواب میں سمندر کی لہریں ہی نظر آ رہی تھیں :smile2:
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%A8%D8%AF-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AA%DA%A9%D8%A8%D9%91%D8%B1-%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%86%D8%B1%DB%8C%D8%A7-%D8%AA%D9%88-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%92-%D8%9F-%D8%BA%D8%B2%D9%84.106497/