عرصہء زیست جاودانی ہے۔ آصف شفیع

آصف شفیع — جون 5، 2009 4:35 شام
ایک غزل پیش خدمت ہے۔
عرصہء زیست جاودانی ہے
یہ فقط میری خوش گمانی ہے
دوست! اپنا وجود کیا معنی
میں بھی فانی ہوں تو بھی فانی ہے
اک محبت فنا نہیں ہوتی
ورنہ ہر چیز آنی جانی ہے
ہر کوئی مست ہے نمایش میں
پیار کی کس نے قدر جانی ہے
دیکھ ! تو بھی پلٹ کے آ جانا
میں نے بھی تیری بات مانی ہے
شبِ غم ہی سے دوستی کر لیں
شامِ خوش رنگ بیت جانی ہے
یہ حقیقت ہے، مان لو آصف
ہر طرف دل کی حکمرانی ہے

( آصف شفیع)
محمد وارث — جون 5، 2009 6:28 شام
خوبصورت غزل ہے آصف صاحب، لاجواب!
دیکھ ! تو بھی پلٹ کے آ جانا
میں نے بھی تیری بات مانی ہے
واہ واہ، بہت خوب!
عمران شناور — جون 6، 2009 6:10 صبح
بہت اچھی غزل ہے آصف صاحب! واہ
ایم اے راجا — جون 6، 2009 6:40 صبح
بہت خوب لاجواب، آصف صاحب داد قبول ہو۔
محمداحمد — جون 9، 2009 12:33 شام
اک محبت فنا نہیں ہوتی
ورنہ ہر چیز آنی جانی ہے

بہت خوب آصف صاحب اچھی غزل ہے۔ داد حاضر ہے جناب!
آصف شفیع — جون 10، 2009 7:36 شام
تمام احباب کا شکریہ۔
جیا راؤ — جون 14، 2009 6:51 شام
شبِ غم ہی سے دوستی کر لیں
شامِ خوش رنگ بیت جانی ہے
بہت خوب۔۔۔۔!
آصف شفیع — جون 15، 2009 6:12 شام
شبِ غم ہی سے دوستی کر لیں
شامِ خوش رنگ بیت جانی ہے
بہت خوب۔۔۔۔!

جیا شکریہ آپ کا۔۔۔۔۔۔۔۔
ناہید — جولائی 28، 2009 4:39 صبح
دیکھ ! تو بھی پلٹ کے آ جانا
میں نے بھی تیری بات مانی ہے
کیا بات ہے آصف، بہت ہی شاندار غزل کہی ہے۔
یہ شعر تو مجھے اپنا حسبِ حال محسوس ہو رہا ہے :blushing:
زورِ قلم اور زیادہ!
خرم شہزاد خرم — جولائی 28، 2009 8:34 صبح
دوست! اپنا وجود کیا معنی
میں بھی فانی ہوں تو بھی فانی ہے
بہت خوب اچھی غزل ہے
مغزل — جولائی 28، 2009 1:11 شام
عرصہء زیست جاودانی ہے
یہ فقط میری خوش گمانی ہے
بے شک !
دوست! اپنا وجود کیا معنی
میں بھی فانی ہوں تو بھی فانی ہے
بے شک !
اک محبت فنا نہیں ہوتی
ورنہ ہر چیز آنی جانی ہے
بے شک !
ہر کوئی مست ہے نمایش میں
پیار کی کس نے قدر جانی ہے
واہ !
دیکھ ! تو بھی پلٹ کے آ جانا
میں نے بھی تیری بات مانی ہے
آہا !
شبِ غم ہی سے دوستی کر لیں
شامِ خوش رنگ بیت جانی ہے
واہ بے شک !
یہ حقیقت ہے، مان لو آصف
ہر طرف دل کی حکمرانی ہے
کیا کہنے ۔واہ
آصف شفیع — جولائی 29، 2009 6:05 صبح
شکریہ مغل صاحب، تبصرہ کرنے کا انداز خوب ہے۔ واہ واہ۔
مغزل — جولائی 29، 2009 6:30 صبح
جی شکریہ جناب، میرے اورمیر ے اسلاف کے نزدیک ’’ معلوم حقیقتو ں کا منظوم ‘‘ بیان شاعری نہیں، ۔۔ سو ’’ بے شک ‘‘ لکھا، ۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B1%D8%B5%DB%81%D8%A1-%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA-%D8%AC%D8%A7%D9%88%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DB%81%DB%92%DB%94-%D8%A2%D8%B5%D9%81-%D8%B4%D9%81%DB%8C%D8%B9.22466/