زھرا علوی — اپریل 16، 2008 8:39 شام
نقطِ انجام ابتدا ہے مری
یہ میری زندگی سزا ہے مری
کھیلتی ہوں میں اپنے خوابوں سے
توڑ کے ہنس پڑوں ادا ہے مری
میں تیرے جور پہ بھی چپ ہوں مگر
یہ مرا ضبط انتباہ ہے مری
وہ ہنر دے مرے خدا کہ سدا
نقشِ دائم رہوں دعا ہے مری
ابن سعید — اپریل 16، 2008 8:48 شام
یہ ہوئی نا بات!
اب جلدی جلدی باقی کے کرامات بھی اہل محفل سے شئر کر ڈالیں

زھرا علوی — اپریل 16، 2008 9:27 شام
جی بھائی ضرور۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد وارث — اپریل 17، 2008 5:21 صبح
نقطِ انجام ابتدا ہے میری
یہ میری زندگی سزا ہے میری
کھیلتی ہوں میں اپنے خوابوں سے
توڑ کے ہنس پڑوں ادا ہے میری
میں تیرے جور پہ بھی چپ ہوں مگر
یہ میرا ضبط انتباہ ہے میری
وہ ہنر دے میرے خدا کہ سدا
نقشِ دائم رہوں دعا ہے میری
بہت اچھے اشعار ہیں بہت داد قبول کیجیئے۔ردیف میں اور اشعار کے دوران جہاں جہاں بھی 'میری، میرے، میرا، تیرے' آیا ہے وہ سب، بحر کے مطابق، 'مری، مرے، مرا، ترے' ہونا چاہتے ہیں۔تیسرے شعر میں گو قافیہ درست ہے یعنی 'انتباہ' (کئی اساتذہ نے ایسے قوافی لکھے ہیں) لیکن میرے خیال میں اگر اسے 'اتنہا' کر دیں تو شاید، خیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الف عین — اپریل 17، 2008 5:54 صبح
وارث کی رائے صائب ہے۔ اس پر سوچیں۔
زھرا علوی — اپریل 17، 2008 8:33 صبح
جی "انتہا" کر دینے میں یقینًا کوئی حرج نہیں میں اسے تبدیک کر دوں گی۔۔۔۔۔۔۔
بہت شکریہ آپ حضرات کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مظفرمحسن — اپریل 17، 2008 8:34 صبح
خوبصورت کلام