عشق

ظہیراحمدظہیر — جنوری 1، 2016 7:14 صبح
عشق
پیکرِ خاک میں تاثیرِ شرر دیتا ہے
آتشِ درد میں جلنے کا ثمر دیتا ہے
اک ذرا گردشِ ایّام میں کرتا ہے اسیر
دسترس میں نئے پھر شام و سحر دیتا ہے
پہلے رکھتا ہے یہ آنکھوں میں شب ِ تیرہ وتار
دستِ امکان میں پھر شمس و قمر دیتا ہے
دل پہ کرتا ہے یہ تصویر جمالِ ہستی
پھر مٹاکر اُسے اک رنگِ دگر دیتا ہے
جذب ِ صادق ہو تو کرتا ہے مقدر منزل
کارِ بے نام کو عنوانِ ظفر دیتا ہے
دور جائیں تو بلاتا ہے یہ اپنی جانب
لوٹ کر آئیں تو پھر اذنِ سفر دیتا ہے
اُس میں قید ِ درودیوار نہیں رکھتا عشق
اپنے آشفتہ مزاجوں کو جو گھر دیتا ہے
یہ کرشمہ ہے عجب عشق ِ تضاد آور کا
پھول سے جسم کو پتھر کا جگر دیتا ہے
لمس پارس تو نہیں بنتا ،مگر یہ سچ ہے
ڈھونڈنے والوں کو مٹی میں گہر دیتا ہے
تابِ گویائی چرا لیتا ہے ان ہونٹوں کی
عشقِ پرکار جب آنکھوں کو نظر دیتا ہے
قلبِ فنکار کو دیتا ہے یہ روحِ احساس
پھر اسے جراءتِ اظہار ِ ہنر دیتا ہے
آؤ چلتے ہیں ذرا بزم ِ سخن میں اسکی
لوگ کہتے ہیں وہ لفظوں کو اثر دیتا ہے
ظہیر احمد ظہیر ۔۔۔۔۔٢٠٠٣ ۔۔۔۔۔۔۔
ٹیگ: کاشف اختر سید عاطف علی فاتح محمد تابش صدیقی
محمد تابش صدیقی — جنوری 1، 2016 8:53 صبح
کیا کہنے ظہیر بھائی۔ کیا ادراک ہے
اک ذرا گردشِ ایّام میں کرتا ہے اسیر
دسترس میں نئے پھر شام و سحر دیتا ہے
پہلے رکھتا ہے یہ آنکھوں میں شب ِ تیرہ وتار
دستِ امکان میں پھر شمس و قمر دیتا ہے

کیا بات ہے ظہیر بھائی
تابِ گویائی چرا لیتا ہے ان ہونٹوں کی
عشقِ پرکار جب آنکھوں کو نظر دیتا ہے
فاتح — جنوری 1، 2016 1:18 شام
واہ واہ واہ کیا ہی خوب اور پر اثر کلام ہے۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 4، 2016 1:56 صبح
کیا کہنے ظہیر بھائی۔ کیا ادراک ہے
کیا بات ہے ظہیر بھائی
بہت محبت ہے جناب آپ کی ۔ بہت نوازش! اللہ آپ کو خوش رکھے۔
واہ واہ واہ کیا ہی خوب اور پر اثر کلام ہے۔

بہت نوازش! عنایت ! سلامت رہیں!
سید اسد معروف — جنوری 5، 2016 7:53 شام
بہت خوب ظہیر بھائی-
آؤ چلتے ہیں ذرا بزم ِ سخن میں اسکی
لوگ کہتے ہیں وہ لفظوں کو اثر دیتا ہے
ہم بھی اسی آس پہ یہاں آئے ہیں۔ فیض بخشیے گا۔
محمداحمد — جنوری 7، 2016 7:52 صبح
سبحان اللہ۔
کیا ہی خوب کلام ہے۔
آؤ چلتے ہیں ذرا بزم ِ سخن میں اسکی
لوگ کہتے ہیں وہ لفظوں کو اثر دیتا ہے

واہ۔۔۔!
بہت خوب۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B4%D9%82.86832/