عشق میں لُٹتے ہیں دو گھر زیرِ پا بالائے سر

ادب دوست — اکتوبر 29، 2015 8:34 صبح
ہے لہو مجھ کو میسر زیرِ پا بالائے سر
عشق میں پتھر ہی پتھر زیرِ پا بالائے سر
دھوپ جھلسائے برابر زیرِ پا بالائے سر
آگ لگتی ہے سراسر زیرِ پا بالائے سر
کم ہی دیکھے ہیں مسخر زیرِ پا بالائے سر
کربلا میں تھے بَہتّر زیرِ پا بالائے سر
رب سے رحمت کی دعا ہو اور قدم بڑھتے رہیں
دونوں جانب ہے مقدر زیرِ پا بالائے سر
پاؤں سے نکلی زمیں چکرا گیا سر دیکھئے
گردشِ دوراں کے تیور زیرِ پا بالائے سر
چاندنی نے کر دیا روشن جو کوئے یار کو
ہوگیا رستہ منور زیرِ پا بالائے سر
ان کے آنے کی خبر پر جام اچھالے جائیں گے
ہوگا کچھ لمحوں میں ساغر زیرِ پا بالائے سر
ہوگئی، بارش میں جب بھیگا دوپٹہ ننگے پیر
پھول کو شبنم میسر زیرِ پا بالائے سر
زندگی برباد تھی جنت بھی نکلی ہاتھ سے
عشق میں لٹتے ہیں دو گھر زیرِ پا بالائے سر
رات کو مزدور کی چادر میں اتنے چھید تھے
رو پڑی غربت لپٹ کر زیرِ پا بالائے سر
تاجِ شاہی آئے گا آخر کو دیوانوں کے ہاتھ
کیا خبر رکھیں کہاں پر؟ زیرِ پابالائے سر
کہہ تو دی ہے اک غزل محفل میں رکھ کر دیکھئے
رکھتے ہیں کس جا سخنور زیرِ پا بالائے سر
محمد وارث — اکتوبر 29، 2015 8:49 صبح
خوب غزل ہے جناب۔
عندلیب — اکتوبر 29، 2015 9:04 صبح
عمدہ
محمداحمد — اکتوبر 29، 2015 9:10 صبح
واہ واہ
بہت خوب غزل ہے بھائی!
خوش رہیے۔
ادب دوست — اکتوبر 29، 2015 10:53 صبح
استادِ محترم جناب الف عین ، ہو .. نگاہِ کرم.
کچھ عرصے پہلے آپ ہی کی شامل کردہ کسی استاد کی غزل پڑھی تھی اسی ردیف میں اور ارادہ کیا تھا کہ کبھی کوشش کریں گے۔ بہرحال کل بھرپور فراغت میں ذہن اِس طرف آ نکلا اور یہ کچھ ہو سکا ہے
ادب دوست — اکتوبر 29، 2015 10:56 صبح

بہت شکریہ محمد وارث بھائی ، آپ کا پسند کرنا باعثِ فخر ہے
ادب دوست — اکتوبر 29، 2015 10:56 صبح
شکریہ :)
ادب دوست — اکتوبر 29، 2015 10:58 صبح
واہ واہ
بہت خوب غزل ہے بھائی!
خوش رہیے۔

بہت شکریہ محمداحمد بھائی
الله سلامت رکھے
محمد وارث — اکتوبر 29، 2015 11:07 صبح
شاہ نصیر دہلوی کی ردیف ہے یہ، مکمل زمین اس لیے نہیں کہ قافیہ اور ہے :)
انہی شاہ نصیر کے شاگرد تسلیم لکھنوی کی غزل بھی ملاحظہ کیجیے، آپ کی غزل بالکل ان کی زمین میں ہے۔
ادب دوست — اکتوبر 29، 2015 11:26 صبح

درست
محمد وارث بھائی اچھی غزل پڑھوائی آپ نے
استاد نے بھی یہی غزل شامل کی تھی
یہاں دیکھی جا سکتی ہے
ابن رضا — اکتوبر 29، 2015 12:50 شام
بہت خوب
فاتح — اکتوبر 29، 2015 1:07 شام
واہ واہ کیا کہنے۔ شاہ نصیر کی ردیف میں خوب غزل اشعار نکالے ہیں آپ نے لیکن اکثر اشعار میں ردیف "زیرِ پا بالائے سر" اضافی لگ رہی ہے یعنی شعر کے مضمون سے لگا نہیں کھا رہی۔
سید عاطف علی — اکتوبر 29، 2015 1:43 شام
خوب غزل ہے واہہہ۔
ادب دوست — اکتوبر 29، 2015 2:28 شام

بہت شکریہ ابن رضا بھائی
ادب دوست — اکتوبر 29، 2015 2:31 شام
واہ واہ کیا کہنے۔ شاہ نصیر کی ردیف میں خوب غزل اشعار نکالے ہیں آپ نے

بہت شکریہ فاتح بھائی ، آپ کی پسندیدگی باعث مسرت ہے
ادب دوست — اکتوبر 29، 2015 2:32 شام
لیکن اکثر اشعار میں ردیف "زیرِ پا بالائے سر" اضافی لگ رہی ہے یعنی شعر کے مضمون سے لگا نہیں کھا رہی۔

اس حوالے سے کچھ دیر میں اپنی گزارشات پیش کرتا ہوں
ادب دوست — اکتوبر 29، 2015 2:37 شام

بہت شکریہ سید عاطف علی بھائی آپ کی حوصلہ افزائی سے بہت خوشی ہوئی
فاروق احمد بھٹی — اکتوبر 29، 2015 2:43 شام
بہت خوب کیا کہنے
ادب دوست — اکتوبر 29، 2015 2:55 شام
واہ واہ کیا کہنے۔ شاہ نصیر کی ردیف میں خوب غزل اشعار نکالے ہیں آپ نے لیکن اکثر اشعار میں ردیف "زیرِ پا بالائے سر" اضافی لگ رہی ہے یعنی شعر کے مضمون سے لگا نہیں کھا رہی۔

فاتح بھائی سب سے پہلے تو آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے توجہ دی۔
میرا اپنا شعری عقیدہ یہ ہے کہ جو بات شاعر شعر میں بیان نہ کر سکے اس بات کو نثر میں بھی بیان نہ کرے یعنی مضمون شعر میں ہی کہنا چاہییے شعر کی مدد کے لیے نثر کا سہارا لینا میں درست نہیں سمجھتا۔
لیکن یہاں کچھ عرض کرنا اس لیے ضروری ہے کہ ایک تو آپ نے اتنی شفقت سے حوصلہ افزئی فرمائی دوسرے یہ کہ میں محفل میں بہت سے لوگوں کی بات اور انکی رائے کو بہت اہمیت دیتا ہوں جن میں آپ بھی شامل ہیں لہذا صرف اس خیال سے کچھ عرض کروں گا واضح رہے کہ بحثیت شاعر اپنے شعر کے بارے میں گفتگو کرنا میں اپنی زاتی رائے میں درست نہیں سمجھتا
اگر آپ ان اشعار کی طرف اشارہ کر دیں تو مجھے بہت آسانی ہوگی۔ یہ عرض کرنے میں کہ میں نے کیا کہنے کی کوشش کی ہے، کہہ سکا یا نہیں بہرحال یہ فیصلہ قاری ہی کا ہوتا ہے
ادب دوست — اکتوبر 29، 2015 2:55 شام

بہت شکریہ فاروق بھائی بہت نوازش
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B4%D9%82-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%84%D9%8F%D9%B9%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%D9%88-%DA%AF%DA%BE%D8%B1-%D8%B2%DB%8C%D8%B1%D9%90-%D9%BE%D8%A7-%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%B3%D8%B1.85544/