آصف شفیع — مئی 11، 2009 8:57 شام
میر کی زمین میں ایک غزل۔ ( احباب سے رائے درکار ہے)
عشق نے کیا کیا کام لیے ہیں ہم جیسے ناداروں سے
"گلیوں گلیوں خوار پھرے ہم، سر مارے دیواروں سے"
رفتہ رفتہ دور ہوئے جاتے ہیں اپنے پیاروں سے
یارو! ہم تو دور ہی اچھے درہموں سے، دیناروں سے
جانے والوں کو تو مانا، اک دن چھوڑ کے جانا ہے
برسوں حسرت جھانکتی رہتی ہے گھر کی دیواروں سے
مہد سے لیکر لحد تلک ہم روپ بدلتے رہتے ہیں
اس دنیا میں ملتے ہیں ہم کتنے ہی کرداروں سے
دل کے تاروں کو جب کوئی آکر چھیڑتا ہے آصف
چشمے پھوٹنے لگ جاتے ہیں دامن میں کہساروں سے
اب بھی درد کا کاسہ لیکر غربت گھر گھر ناچتی ہے
اور توقع رکھیں کتنی، ہم آصف ، زرداروں سے
( آصف شفیع)
آصف شفیع — مئی 11، 2009 9:22 شام
الف عین — مئی 12، 2009 3:44 صبح
اچھی غزل ہے آصف، لیکن ’اشجاروں‘ کی جمع الجمع کا کوئی جواز نہیں۔
محمد وارث — مئی 12، 2009 4:52 صبح
واہ واہ آصف صاحب، بہت خوبصورت غزل ہے، بہت داد قبول کیجیے قبلہ:
رفتہ رفتہ دور ہوئے جاتے ہیں اپنے پیاروں سے
یارو! ہم تو دور ہی اچھے درہم اور دیناروں سے
جانے والوں کو تو مانا، اک دن چھوڑ کے جانا ہے
برسوں حسرت جھانکتی رہتی ہے گھر کی دیواروں سے
مہد سے لیکر لحد تلک ہم روپ بدلتے رہتے ہیں
اس دنیا میں ملتے ہیں ہم کتنے ہی کرداروں سے
دل کے تاروں کو جب کوئی آکے چھیڑتا ہے آصف
چشمے پھوٹنے لگ جاتے ہیں دامن میں کہساروں سے
لا جواب!
ناہید — مئی 12، 2009 4:58 صبح
آصف، غزل اچھی ہے۔
شجر کی جمع تو اشجار ہے یہ اشجاروں کیا ہوتا ہے؟
یہ میںنے پہلی بار سُنا ہے کہ جمع کی جمع بھی ہوتی ہے۔ آپ اس پر غور کر لیں۔
شکریہ
ناہید
آصف شفیع — مئی 12، 2009 7:39 صبح
اچھی غزل ہے آصف، لیکن ’اشجاروں‘ کی جمع الجمع کا کوئی جواز نہیں۔
شکریہ سر! آپ نے صحیح فرمایا۔( یہ اشعار کل ایک ہی نشست میں ہوئے ہیں ابھی کچھ اور اضافہ بھی ہو سکتا ہے ۔ اسی لیے احباب سے رائے لی ہے تاکہ اگر کوئی خامی ہو تو دور ہو جائے۔)
آصف شفیع — مئی 12، 2009 7:49 صبح
آصف، غزل اچھی ہے۔
شجر کی جمع تو اشجار ہے یہ اشجاروں کیا ہوتا ہے؟
یہ میںنے پہلی بار سُنا ہے کہ جمع کی جمع بھی ہوتی ہے۔ آپ اس پر غور کر لیں۔
شکریہ
ناہید
شکریہ/ چلیں اشجار کے بہانے آپ محفل میں تو تشریف لائیں۔ لیجیے ہم نے تمام اشجار کاٹ ڈالے۔

عین عین — مئی 12، 2009 7:59 صبح
آصف زرداروںخوب ہے بھائی۔

عمران شناور — مئی 12، 2009 8:40 صبح
آصف صاحب بہت اچھی غزل ہے
مبارک باد قبول ہو۔
’اپنا لہو پھر اپنا لہو ہے‘ وطن یاد آگیا ہی گیا
آصف شفیع — مئی 12، 2009 8:46 صبح
آصف صاحب بہت اچھی غزل ہے
مبارک باد قبول ہو۔
’اپنا لہو پھر اپنا لہو ہے‘ وطن یاد آگیا ہی گیا
شکریہ عمران! وطن سے باہر رہنے والوں کیلے اپنوں سے دوری ہی سب سے بڑا المیہ ہے۔
دشتِ غربت کے خارزاروں میں
یاد آتا رہا وطن مجھ کو

ایم اے راجا — مئی 12، 2009 10:19 صبح
ایم اے راجا — مئی 12، 2009 10:23 صبح
عشق نے کیا کیا کام لیے ہیں ہم جیسے ناداروں سے
"گلیوں گلیوں خوار پھرایا، سر مارے دیواروں سے"
واہ واہ لاجواب، آصف صاحب بہت خوب کہی ہے واہ واہ۔
آصف شفیع — مئی 12، 2009 10:55 صبح
عشق نے کیا کیا کام لیے ہیں ہم جیسے ناداروں سے
"گلیوں گلیوں خوار پھرایا، سر مارے دیواروں سے"
واہ واہ لاجواب، آصف صاحب بہت خوب کہی ہے واہ واہ۔
راجہ صاحب، بہت شکریہ۔
الف عین — مئی 12، 2009 11:29 صبح
اک تکنیکی غلطی کا اور خیال آیا۔۔ عشق نے آپ سے کام کروائے ہیں، تو دیواروں سے بھی سر مروائے ہوں گے نا!!
"گلیوں گلیوں خوار پھرایا، سر مارے دیواروں سے"
عشق نے خود تو سر نہیں مارے ہوں گے نا!!
عمران شناور — مئی 12، 2009 1:31 شام
کیوں آصف صاحب! آپ کو ای میل کے ذریعے جس غلطی کی نشاندہی کی تھی۔ الف عین صاحب نے بھی واضح کر دی
اور سناؤ۔۔۔۔۔۔!
آصف شفیع — مئی 12، 2009 2:49 شام
کیوں آصف صاحب! آپ کو ای میل کے ذریعے جس غلطی کی نشاندہی کی تھی۔ الف عین صاحب نے بھی واضح کر دی
اور سناؤ۔۔۔۔۔۔!
در اصل مجھے کل یہاں جو طرح مصرع دیا گیا تھا وہ یونہی تھا
"
گلیوں گلیوں خوار پھرایا، سر مارے دیواروں سے"
لہذا اسی کے اوپر گرہ لگائی۔ مجھے خود مصرعے کے دوسرے حصے پر اطمینان نہیں تھا۔ ذہن میں تھا کہ مصرعہ چیک کروں گا لیکن آج آپ نے میل کے ذریعے بتایا کہ اصل مصرعہ یوں ہے۔
"
گلیوں گلیوں خوار پھرے ہم، سر مارے دیواروں سے"
لہذا اس کو تبدیل کر دیتے ہیں۔
اعجاز صاحب کی فراست کی داد دیتے ہیں۔
محمداحمد — مئی 15، 2009 12:17 شام
رفتہ رفتہ دور ہوئے جاتے ہیں اپنے پیاروں سے
یارو! ہم تو دور ہی اچھے درہموں سے، دیناروں سے
جانے والوں کو تو مانا، اک دن چھوڑ کے جانا ہے
برسوں حسرت جھانکتی رہتی ہے گھر کی دیواروں سے
مہد سے لیکر لحد تلک ہم روپ بدلتے رہتے ہیں
اس دنیا میں ملتے ہیں ہم کتنے ہی کرداروں سے
دل کے تاروں کو جب کوئی آکر چھیڑتا ہے آصف
چشمے پھوٹنے لگ جاتے ہیں دامن میں کہساروں سے
بہت خوب آصف شفیع صاحب،
بہت اچھی غزل ہے اور خاص طور پر اوپر دیئے گئے اشعار بہت اچھے ہیں۔
داد حاضر ہے۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
خوش رہیے۔