معاذ صدیقی — نومبر 18، 2006 9:19 شام
اب کے برس بھی نکلا چاند
لیکن تھا وہ سُونا چاند
برسوں اِدھر اُدھر بھٹک کر
بھول گیا اپنا رستہ چاند
ایک مانگو تو دو ملتے ہیں 1
ہوگیا کتنا سستا چاند
نارتھ امریکہ شور بہت تھا 2
لیکن کس نے دیکھا چاند
جب امت ہو ٹکڑے ٹکڑے
کیسے ایک ہو اس کا چاند
سب کی اپنی اپنی مسجد 3
سب کا اپنا اپنا چاند
یونٹی کیا ہے میری مانو
کیسی عید اور کہاں کا چاند
ایک شہر میں دو دو عیدیں
دیکھ کے ہنستا ہو گا چاند
معاذ سے پوچھو تو وہ بولے
گھر میں میرے میرا چاند
معاذ المساعد صدیقی
1- Buy one get one free- is very popular in USA
No one bother to see moon in America but argue over it -2
3- امریکہ میں مساجد کی تقسیم اس طرح ہے - عربوں کی مسجد ، بنگالی مسجد، افغانی مسجد ، کالوں کی مسجد وغیرہ وغیرہ
میری یہ نظم نیویارک میں دوستوں اور احباب کو پسند آئ
شمشاد — نومبر 18، 2006 10:27 شام
معاذ صدیقی صاحب میں آپ کو اس محفل میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ آپ “ تعارف “ کے زمرے میں آئیں اور اپنا مختصر سا تعارف تو دیں۔
آپ کی نظم، آپ نے اسے مزاحیہ شاعری کے زمرے میں کیوں لکھا، یہ تو انتہائی سنجیدہ بات ہے۔ اور یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم مسلمانوں کا خدا ایک، قرآن ایک، رسول ایک لیکن عقیدے مختلف، عیدیں مختلف اور طور طریقے مختلف۔ ہم خود ہی غیر مسلموں کو اپنے اوپر ہنسنے کے مواقعے فراہم کرتے ہیں۔ ہم میں اتحاد نہیں، ہماری مسجدیں تک تو جدا جدا ہیں جہاں ہم ایک ہی خدا کی عبادت کرتے ہیں۔
امید ہے آپ آتے رہیں گے اور اپنے خیالات سے مستفیذ فرماتے رہیں گے۔
پاکستانی — نومبر 18، 2006 11:15 شام
بہت ہی زبردست معاذ صدیقی صاحب، بہت ہی خوبصورت نظم پوسٹ کی ہے آپ نے، اللہ ہم مسلمانوں پر رحم کرے ورنہ ہمارا کوئی حال نہیں ہے، ٹکڑوں، فرقوں اور مختلف رنگوں میں بٹی ہوئی اس قوم پر واقعی چاند بھی ہنستا ہو گا
شائستہ — نومبر 18، 2006 11:26 شام
معاذ صدیقی نے کہا:
اب کے برس بھی نکلا چاند
لیکن تھا وہ سُونا چاند
برسوں اِدھر اُدھر بھٹک کر
بھول گیا اپنا رستہ چاند
ایک مانگو تو دو ملتے ہیں 1
ہوگیا کتنا سستا چاند
نارتھ امریکہ شور بہت تھا 2
لیکن کس نے دیکھا چاند
جب امت ہو ٹکڑے ٹکڑے
کیسے ایک ہو اس کا چاند
سب کی اپنی اپنی مسجد 3
سب کا اپنا اپنا چاند
یونٹی کیا ہے میری مانو
کیسی عید اور کہاں کا چاند
ایک شہر میں دو دو عیدیں
دیکھ کے ہنستا ہو گا چاند
معاذ سے پوچھو تو وہ بولے
گھر میں میرے میرا چاند
معاذ المساعد صدیقی
1- Buy one get one free- is very popular in USA
No one bother to see moon in America but argue over it -2
3- امریکہ میں مساجد کی تقسیم اس طرح ہے - عربوں کی مسجد ، بنگالی مسجد، افغانی مسجد ، کالوں کی مسجد وغیرہ وغیرہ
میری یہ نظم نیویارک میں دوستوں اور احباب کو پسند آئ
بہت خوب ، اس مسلے کا کوئی حل تو ہوگا

پاکستانی — نومبر 18، 2006 11:40 شام
شائستہ نے کہا:
معاذ صدیقی نے کہا:
اب کے برس بھی نکلا چاند
لیکن تھا وہ سُونا چاند
برسوں اِدھر اُدھر بھٹک کر
بھول گیا اپنا رستہ چاند
ایک مانگو تو دو ملتے ہیں 1
ہوگیا کتنا سستا چاند
نارتھ امریکہ شور بہت تھا 2
لیکن کس نے دیکھا چاند
جب امت ہو ٹکڑے ٹکڑے
کیسے ایک ہو اس کا چاند
سب کی اپنی اپنی مسجد 3
سب کا اپنا اپنا چاند
یونٹی کیا ہے میری مانو
کیسی عید اور کہاں کا چاند
ایک شہر میں دو دو عیدیں
دیکھ کے ہنستا ہو گا چاند
معاذ سے پوچھو تو وہ بولے
گھر میں میرے میرا چاند
معاذ المساعد صدیقی
1- Buy one get one free- is very popular in USA
No one bother to see moon in America but argue over it -2
3- امریکہ میں مساجد کی تقسیم اس طرح ہے - عربوں کی مسجد ، بنگالی مسجد، افغانی مسجد ، کالوں کی مسجد وغیرہ وغیرہ
میری یہ نظم نیویارک میں دوستوں اور احباب کو پسند آئ
بہت خوب ، اس مسلے کا کوئی حل تو ہوگا
مثلا ؟
یہ جھگڑا صرف امریکہ میں ہی نہیں تمام مسلم دنیا میں ہوتا ہے، یہاں پاکستان میں اس بار تین عیدیں ہوئیں۔
دوست — نومبر 19، 2006 1:21 صبح
قیصرانی — نومبر 20، 2006 9:35 صبح
السلام علیکم معاذ المساعد صدیقی، اگر میں غلطی پر نہیںتو پال ٹاک پر آپ کو دیکھا تھا۔ الدعویٰکے روم میں
سب سے پہلے تو آپ کو محفل میں خوش آمدید
دوسرا یہ نظم مزاح تو ھے لیکن اس میں طنز بہت گہرا ھے۔ اچھا طنز شوگر کوٹڈ ھونا چاھئے
لیکن یہ کب تک ایسا ہوتا رھے گا؟ اس کا جواب یہ ھے کہ جب تک ھم جدید علوم سے غیر تعلیم یافتہ اور فرقے باز علماء کو مانتے رھیں گے، ان کی پیروی کرتے رھیں گے، ایسا ھونا ھمارا مقدر ھے۔ لیکن خیر، پستی اور ذلت کی بھی ایک حد ھے۔ اس کے بعد انشاء اللہ ھمارا بول بالا ھوگا
محمد یعقوب آسی — مئی 6، 2015 8:36 شام
۔۔۔ باتیں پرانیاں ہیں!