عین ممکن ہے وہ ادھر دیکھے ۔

عظیم — اکتوبر 17، 2017 10:43 صبح
غزل
عین ممکن ہے وہ اِدھر دیکھے
اور مجھ کو جہان بھر دیکھے
عشق وہ دشت ہے کہ دیکھ لے جو
پھر نہ مڑ کر وہ اپنا گھر دیکھے
دل تو محسوس اس کو کرتا ہے
اس طرح بھی ہو یہ نظر دیکھے
جیتے رہنے کا کیا مزہ اس بن ؟
جس کو جینا ہو اس پہ مر دیکھے
اور کس در پہ ہیں سنی جاتیں
کوئی دیکھے بھی تو کدھر دیکھے
جس کو نفرت ہے میرے نام سے بھی
مجھ کو دیکھے مرا سفر دیکھے
دیکھتے ہیں عظیم لوگ خوشی
کون میری یہ چشمِ تر دیکھے
*****
محمد عظیم تاج
سید عمران — اکتوبر 17، 2017 10:57 صبح
واہ۔۔۔
مطلع زبردست ہے۔۔۔
صرف نام نہاد معشوق ہی نہیں ۔۔۔
کوئی مشہور شخصیت ہمیں دیکھے۔۔۔
اور اس کی نگاہوں کے تعاقب میں ساری دنیا کی نظریں ہمیں دیکھیں تو دل کی کیفیات و احساسات کا ہر کوئی اندازہ لگاسکتا ہے!!!
:applause::applause::applause:
الف عین — اکتوبر 17، 2017 4:52 شام
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%DB%8C%D9%86-%D9%85%D9%85%DA%A9%D9%86-%DB%81%DB%92-%D9%88%DB%81-%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92-%DB%94.98723/