غالب کی زمین : تازہ غزل

انیس فاروقی — مئی 22، 2009 4:42 شام
کتنے سادہ ہیں کہ زُلفوں کو گھٹا کہتے ہیں
یہ مِرے اہلِ سُخن دیکھئے کیا کہتے ہیں
ناگہاں اُنکے رہے ہم پہ صدا قِہر و عتَاب
ہم وہ عاجِز ہیں کہ بَس حرفِ دُعا کہتے ہیں
روزِ محشر ہے کِیا جب سے گُمانِ خاطر
تب سے ہر زخم کو ہم دل کے جزا کہتے ہیں
اس زمانے میں تو ہم نے یہی دیکھا ہے انیسؔ
"ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کوبُرا کہتے ہیں"
الف عین — مئی 22، 2009 6:12 شام
تب سجایا تھا اُسے دل کے صنم خانے میں
اب وہی بُتِ گرانے کو ادا کہتے ہیں
دوسرا مصرع کیا ہے؟ یہ میں نے نہیں دیکھا تھا۔
محمد وارث — مئی 22، 2009 6:18 شام
اچھی غزل ہے فاروقی صاحب، بہت اچھے اشعار ہیں، لاجواب!
اعجاز صاحب ایک مصرعے کی طرف اشارہ کر چکے، تیسرے شعر میں ایک ٹائپو بھی صحیح کر لیں، یعنی 'صدا' کو 'سدا' ہونا چاہیئے شاید!
انیس فاروقی — مئی 22، 2009 8:08 شام
تب سجایا تھا اُسے دل کے صنم خانے میں
اب وہی بُتِ گرانے کو ادا کہتے ہیں
دوسرا مصرع کیا ہے؟ یہ میں نے نہیں دیکھا تھا۔

سمجھا نہیں میں آپ کی بات
محمد وارث — مئی 23، 2009 9:02 صبح
مذکورہ مصرع بے وزن ہے!
ایم اے راجا — مئی 25، 2009 6:09 شام
روزِ محشر ہے کِیا جب سے گُمانِ خاطر
تب سے ہر زخم کو ہم دل کے جزا کہتے ہیں
اس زمانے میں تو ہم نے یہی دیکھا ہے انیسؔ
"ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کوبُرا کہتے ہیں"
واہ واہ لاجواب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%A7%D9%84%D8%A8-%DA%A9%DB%8C-%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%BA%D8%B2%D9%84.22104/