غزالی غزل

محمد اسامہ سَرسَری — فروری 1، 2013 11:30 صبح
سب پھلوں میں آم کی کیا بات ہے!
قبض میں پر جام(امرود) کی کیا بات ہے!
لب ، لپسٹک اور لہو سب لال لال
واہ حرفِ لام کی کیا بات ہے!
خشک میوے سب کے سب اچھے مگر
پستے اور بادام کی کیا بات ہے!
صبح سب کا دل لبھاتی ہے ضرور
لیکن اے دل شام کی کیا بات ہے!
قولِ قائد ’’کام کام اور کام‘‘ ہے
قولِ دل ’’آرام کی کیا بات ہے!‘‘
فام سی نرمی ہے ، گل سا حسن ہے
اس حسیں ’’گلفام‘‘ کی کیا بات ہے!
اس تخلص سے سبھی حیران ہیں
سَرسَری! اس نام کی کیا بات ہے!
فاتح — فروری 1، 2013 12:20 شام
واہ واہ چہ خوب
الف عین — فروری 2، 2013 9:03 صبح
واہ، اس غزل سے سرسری نہیں گزرا جا سکتا
منیب احمد فاتح — فروری 2، 2013 11:33 صبح
واہ وا، کیا بات ہے!
عبدالقدوس راشد — فروری 2، 2013 11:35 صبح
بہت خوب جناب
بنت یاسین — فروری 2، 2013 7:04 شام
بہت ہی زبردست۔
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 2، 2013 7:15 شام
جزاکِ۟ اللہ خیرا!
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 2، 2013 7:16 شام
واہ، اس غزل سے سرسری نہیں گزرا جا سکتا
حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ جناب!
اگر قیمتی اوقات میں سے کچھ گنجائش ہو تو بندے کی اس نعت پر بھی نظرِ کرم فرمادیجیے:
http://www.urduweb.org/mehfil/threads/ندامت-کے-آنسو.59429/

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D8%A7%D9%84%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84.59375/