غزل---دل ہےتو دھر مرے کلام پہ کان

منذر رضا — فروری 26، 2020 6:58 صبح
السلام علیکم!
اہلِ محفل کی خدمت میں ایک غزل پیش کر رہا ہوں، ملاحظہ ہو:
ایسے بن کو چمن نہ سمجھا جائے
اس زماں کا چلن نہ سمجھا جائے
دل ہے تو دھر مرے کلام پہ کان
عقل سے یہ سخن نہ سمجھا جائے
وہی الفت، وفا، نبھانے کی بات
دل کا طرزِ کہن نہ سمجھا جائے
تیری پلکیں ہیں، کوئی تیر نہیں
پھر بھی دل میں چبھن، نہ سمجھا جائے!
عشق ہے یہ، بتوں کا عشق!، اسے
عام سی اک لگن نہ سمجھا جائے
منذر اس قدر بیدلی ! توبہ!
رازِ رنج و محن نہ سمجھا جائے!
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 26، 2020 7:46 صبح
ماشاء اللہ، حسبِ سابق اچھی غزل ہے۔
مجھے بس مطلع دولخت محسوس ہوا، اور پلکوں کی نرمی پر بھی متردد ہوں، پلکیں تو عموماً نازکی سے موصوف ہوتی ہیں؟ :)
وہی الفت، وفا، نبھانے کی بات
دل کا طرزِ کہن نہ سمجھا جائے
زبردست!
دعاگو،
راحلؔ
منذر رضا — فروری 26، 2020 7:53 صبح
پلکوں والا مصرع تبدیل کر دیا راحل صاحب، شکریہ !
Wajih Bukhari — فروری 26، 2020 12:33 شام
اچھی غزل ہے
الف عین — فروری 27، 2020 4:30 صبح
اچھی غزل ہے پسند آئی۔ لیکن
منذر اس قدر بیدلی ! توبہ!
رازِ رنج و محن نہ سمجھا جائے!
یہاں قدر کا تلفظ غلط قدر کا لگ گیا ہے
منذر رضا — فروری 27، 2020 6:43 صبح
الف عین
حضرت میری نظر میں تو مبارک شاہ آبرو کا یہ شعر تھا:
افسوس اوں کی قدر کوں تم پوچھتے نہیں
پہچان جانتے نہیں تم دل کے دوستدار
الف عین — فروری 28، 2020 8:54 صبح
الف عین
حضرت میری نظر میں تو مبارک شاہ آبرو کا یہ شعر تھا:
افسوس اوں کی قدر کوں تم پوچھتے نہیں
پہچان جانتے نہیں تم دل کے دوستدار
یہاں بھی قدر کے معنی عزت و تکریم کے ہیں جو درست ہے، لیکن کس قدر، جس قدر وغیرہ میں مقدار کے معنی میں ہے، جو مفتوح دال کے ساتھ ہوتا ہے۔
غالب
شرحِ اسبابِ گرفتاریِ خاطر مت پوچھ
اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
اور قدر بمعنی تکریم، غالب :
دلِ حسرت زدہ تھا مائدۂ لذتِ درد
کام یاروں کا بہ قدرِ لب و دنداں نکلا
منذر رضا — فروری 28، 2020 10:54 صبح
صحیح حضور، رہنمائی کا شکریہ الف عین صاحب
Wajih Bukhari — فروری 29، 2020 12:46 صبح
یہاں بھی قدر کے معنی عزت و تکریم کے ہیں جو درست ہے، لیکن کس قدر، جس قدر وغیرہ میں مقدار کے معنی میں ہے، جو مفتوح دال کے ساتھ ہوتا ہے۔
غالب
شرحِ اسبابِ گرفتاریِ خاطر مت پوچھ
اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
اور قدر بمعنی تکریم، غالب :
دلِ حسرت زدہ تھا مائدۂ لذتِ درد
کام یاروں کا بہ قدرِ لب و دنداں نکلا
شکریہ۔ یہ فرمائیے کہ کیا قدَر بمعنی مقدار ایک غلط العام تلفظ ہے اور اصل تلفظ قدر (دال ساکن) تھا؟
الف عین — فروری 29، 2020 5:26 صبح
قدر، دال ساکن، بمعنی مقدار کی مثال دیں۔ اگر ' اس قدَر'، دال مفتوح، کو دال ساکن بولا جاتا یو تو تمہاری بات مانتا ہوں، ورنہ میں نے تو کبھی دال ساکن نہیں سنا اس یا کس کے ساتھ!
Wajih Bukhari — فروری 29، 2020 1:33 شام
قدر، دال ساکن، بمعنی مقدار کی مثال دیں۔ اگر ' اس قدَر'، دال مفتوح، کو دال ساکن بولا جاتا یو تو تمہاری بات مانتا ہوں، ورنہ میں نے تو کبھی دال ساکن نہیں سنا اس یا کس کے ساتھ!
میں نے لغت میں ایسا لکھا دیکھا کہ قدر کے دونوں تلفظات کے تحت اس کے معانی میں تکریم اور مقدار درج تھے۔ آپ اس لغت میں ملاحظہ فرمائیے۔
Urdu Lughat

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AF%D9%84-%DB%81%DB%92%D8%AA%D9%88-%D8%AF%DA%BE%D8%B1-%D9%85%D8%B1%DB%92-%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85-%D9%BE%DB%81-%DA%A9%D8%A7%D9%86.110668/