غزل-کیوں کر کروں شکایتِ آزارِ نقشِ پا

محمد ریحان قریشی — اپریل 21، 2016 11:12 صبح
کیسے کروں شکایتِ آزارِ نقشِ پا
ہر زخمِ دل مرا ہے نمک خوارِ نقشِ پا
گلشن میں سج گیا ہے جو بازارِ نقشِ پا
گل چھوڑ بلبلیں ہیں خریدارِ نقشِ پا
گر نقشِ پائے یار کو آئینہ جانیے
کہیے مری مژہ کو بھی زنگارِ نقشِ پا
طاقت کہاں کہ دید کریں بے حجاب ہم
کرتا زمین بوس ہے دیدارِ نقشِ پا
دنیا ہماری راہ عبث ڈهونڈتی ہے اب
جاتے ہیں موج ساتھ ہی آثارِ نقشِ پا
ہم راہرو جہان سے ایسے گزر گئے
گویا نہ چھوڑا خاک پہ بھی بارِ نقشِ پا
دیتے ہیں راستے کو ہی ریحان ہم بدل
آئے نظر جو راہ پہ تکرارِ نقشِ پا
راحیل فاروق — اپریل 21، 2016 11:37 صبح
گر نقشِ پائے یار کو آئینہ جانیے
کہیے مری مژہ کو بھی زنگارِ نقشِ پا
ان نازک خیالیوں کے کیا کہنے!
اتنی سی عمر میں ایسے شعر کہتے ہیں تو ایک بات یقینی ہے۔ آپ کے شعری مطالعے کا آغاز ضرور غالبؔ سے ہوا ہو گا۔
محمد ریحان قریشی — اپریل 21، 2016 11:46 صبح
ان نازک خیالیوں کے کیا کہنے!
اتنی سی عمر میں ایسے شعر کہتے ہیں تو ایک بات یقینی ہے۔ آپ کے شعری مطالعے کا آغاز ضرور غالبؔ سے ہوا ہو گا۔
حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ جناب. شعری مطالعہ تو اقبال سے شروع ہوا دس سال کی عمر میں مگر دو تین سال سے غالب ہی میں گم ہوں.
عبیر خان — اپریل 21، 2016 12:01 شام
بہت ہی عمدہ۔ شکریہ :)
محمد ریحان قریشی — اپریل 22، 2016 9:30 صبح
اس بیچاری غزل کو تو فیسبک پہ بهی چار ہی لائکس ملیں.
محمد تابش صدیقی — اپریل 22، 2016 9:40 صبح
اس بیچاری غزل کو تو فیسبک پہ بهی چار ہی لائکس ملیں.
اردو محفل کا ایک لائک فیسبک کے سو لائکس سے بہتر ہے۔ :)
سید عاطف علی — اپریل 22، 2016 11:20 صبح
ریحان قریشی بھیا بہت اچھی غزل ہے۔
البتہ آپ اپنے اسلوب کو خود مزید پختہ کر سکتے ہیں ۔ مشق سخن خوب ہے ، جاری رکھیے۔
اکمل زیدی — اپریل 22، 2016 11:46 صبح
اتنی سی عمر میں ایسے شعر کہتے ہیں
شعری مطالعہ تو اقبال سے شروع ہوا دس سال کی عمر میں مگر دو تین سال سے
مجھے پہلے ہی شک تھا یہ عمر سولہ سال شاعری کی عمر ہے باقی طبعی عمر کیا ہے وہ بتائیں......سچ سچ . . .اور سچ تو ہے کے مجھے یقین نہیں آیا ۔ اس دن تو بچہ سمجھ کے چھوڑ دیا تھا . . . :D:D
ادب دوست — اپریل 22، 2016 12:07 شام
واہ واہ کیا کہنے بھئی بہت خوب ۔۔ بہت بہت داد قبول کیجئے ۔
گلشن میں سج گیا ہے جو بازارِ نقشِ پا
گل چھوڑ بلبلیں ہیں خریدارِ نقشِ پا
واہ واہ کیا کہنے خوش رہیں۔۔۔ واہ
گر نقشِ پائے یار کو آئینہ جانیے
کہیے مری مژہ کو بھی زنگارِ نقشِ پا
بہت خوب ۔۔
دنیا ہماری راہ عبث ڈهونڈتی ہے اب
جاتے ہیں موج ساتھ ہی آثارِ نقشِ پا
یہاں وہ عاطف بھائی والی بات ۔۔ جاتے ہیں ساتھ موج کے ۔۔
ہم راہرو جہان سے ایسے گزر گئے
گویا نہ چھوڑا خاک پہ بھی بارِ نقشِ پا
بارِ نقشِ پا کا جواب نہیں صاحب ۔۔ شعر یاد نہیں آرہا، سودا نے تضحیکِ روزگار میں اسی نوعیت کا ایک خیال باندھا ہے ۔۔
اس بیچاری غزل کو تو فیسبک پہ بهی چار ہی لائکس ملیں.
فیس بک کے لائک، اس لائق ہیں کہ کسی شے کو ان کے اعتبار سے دیکھا جائے؟
برادر یہ محفل کے لائکس ہیں اور یقین کیجئے ان میں ہر ایک کی بہت اہمیت ہے
اردو محفل کا ایک لائک فیسبک کے سو لائکس سے بہتر ہے۔ :)
اور میرے حساب سے محفل میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے ایک لائک کو میں فیس بک کے ہزار لائک پر فائق سمجھتا ہوں۔
ریحان قریشی بھیا بہت اچھی غزل ہے۔
البتہ آپ اپنے اسلوب کو خود مزید پختہ کر سکتے ہیں ۔ مشق سخن خوب ہے ، جاری رکھیے۔
متفق۔۔ اس نوجوان کا اپنا لہجہ دیدنی ہوگا عاطف بھائی۔۔۔
ماشاء اللہ
عبیر خان — اپریل 22، 2016 12:16 شام
اس بیچاری غزل کو تو فیسبک پہ بهی چار ہی لائکس ملیں.
شکر کریں کے لائک مل گے ہے۔ اور فیسبک والوں نے اس پوسٹ کو سپیم نہیں کیا۔ :)
سرور احمد — اپریل 23، 2016 2:36 صبح
غالب کے ہیں انداز،تو اقبالی تخیُّل
تم شعر کہو ہو ،کہ کرامات کرو ہو!
الف عین — اپریل 23، 2016 4:13 صبح
میں لائک نہیں کر رہا، زبردستی کر رہا ہوں
ابن رضا — اپریل 23، 2016 7:23 صبح
خوب است!
محمد ریحان قریشی — اپریل 23، 2016 7:30 صبح
غالب کے ہیں انداز،تو اقبالی تخیُّل
تم شعر کہو ہو ،کہ کرامات کرو ہو!
حوصلہ افزائی کا بے حد شکریہ ۔
میں لائک نہیں کر رہا، زبردستی کر رہا ہوں
آپ کی پسند میرے لیے سایہء ہما کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے نہایت شکریہ۔
نور وجدان — اپریل 25، 2016 11:26 صبح
بہت خوب چھوٹو !
محمد ریحان قریشی — اپریل 25، 2016 11:30 صبح
حوصلہ افزائی کے لیے مشکور ہوں.
فرخ منظور — اپریل 26، 2016 11:46 صبح
بہت اعلیٰ۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ مزید غزلیات میں مجھے ٹیگ کیجیے گا۔
فاتح — اپریل 26، 2016 12:18 شام
واہ واہ بہت خوب غزل ہے۔ کیا کہنے میاں جیتے رہو
محمد ریحان قریشی — اپریل 26، 2016 1:05 شام
بہت اعلیٰ۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ مزید غزلیات میں مجھے ٹیگ کیجیے گا۔
واہ واہ بہت خوب غزل ہے۔ کیا کہنے میاں جیتے رہو
بہت نوازش. بے حد شکریہ.
ظہیراحمدظہیر — اپریل 26، 2016 6:35 شام
بہت اعلیٰ !! کیا بات ہے ! ماشاءاللہ اچھے اشعار نکالے ہیں ! اللہ کرے زورِ بیاں اور زیادہ !
یہ غزل بہت خوش آئند ہے !!
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA-%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%AA%D9%90-%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%90-%D9%86%D9%82%D8%B4%D9%90-%D9%BE%D8%A7.89481/