عاصم راحیل عاصم — فروری 24، 2018 5:11 شام
کہیں حال کیا ہم نشینوں کے صاحب
کہ ہیں سانپ سب آستینوں کے صاحب
ترے وصل میں جیسے صدیاں بھی لمحہ
ترے ہجر میں دن مہینوں کے صاحب
مرے عشق کی شعلہ گرمی سے عاصم
دھڑکتے ہیں دل آبگینوں کے صاحب
منیب الف — فروری 26، 2018 5:12 صبح
شاندار اشعار، عاصم بھائی!
الف عین — فروری 26، 2018 4:10 شام
تینوں اشعار درست ہیں
منیب الف — فروری 26، 2018 5:00 شام
الف عین استاد محترم،
اپنی شاعری کی لڑیوں پر آپ کے مصلحانہ تبصروں کا منتظر ہوں۔
قلمی نام تبدیل کرنے کی وجہ سے یہ نئی آئی ڈی بنانی پڑی ہے۔
جزاک اللہ احسن الجزاء۔
عاصم راحیل عاصم — فروری 26، 2018 7:35 شام
محترم الف عین صاحب! شکریہ۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 10، 2018 10:59 شام
واہ! اچھے اشعار ہیں !
ترے کے ساتھ صاحب کا استعمال عجیب سا لگ رہا ہے ۔ ساحب کے ساتھ عام طور پر ’’تو‘‘ کے بجائے آپ استعمال ہوتا ہے ۔