غزل

عاصم راحیل عاصم — مارچ 13، 2018 2:51 شام
کہیں حال کیا ہم نشینوں کے صاحب
کہ ہیں سانپ سب آستینوں کے صاحب
ترے وصل میں جیسے صدیاں بھی لمحہ
ترے ہجر میں دن مہینوں کے صاحب
نظر آسماں پہ بھی ہے ان کی ہر دم
بنے ہیں جو مالک زمینوں کے صاحب
مرے عشق کی شعلہ گرمی سےعاصم
دھڑکتے ہیں دل آبگینوں کے صاحب
محمداحمد — مارچ 26، 2018 11:47 صبح
بہت خوب!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.100491/