غزل

صدف رباب — اگست 5، 2018 2:20 شام
ذرا سکون کی خاطر ہی ادھر آے ہیں
تمام زخم کہ سینے میں اتر آے ہیں
دروغِ مصلحت آمیز سے نہ بہلاؤ
مجھے بھی علم ہے عذاب اتر آے ہیں
یہاں دریدہ گریباں ہیں چاک دامن ہیں
لبوں پہ رکھے ہنسی آپ کدھر آے ہیں
اے خدا تیری خدائی کا جب سوال ہوا
جانتے بوجھتے ہم اس سے مُکر آے ہیں
تھی جنکی نرم گوئی باعثِ راحت اے صدف
درشت لہجہ لئیے آج نظر آے ہیں
محمدظہیر — اگست 5، 2018 2:32 شام
کلام خوب ہے، اس میں دو رائے نہیں ہے، یعنی دوسرا آپشن رکھا نہیں ہے آپ نے :)
صدف رباب — اگست 5، 2018 2:43 شام
کلام خوب ہے، اس میں دو رائے نہیں ہے، یعنی دوسرا آپشن رکھا نہیں ہے آپ نے :)
بہت نوازش ...
وہ آپشن مجھے تاخیر سے سمجھ میں آیا :|
الف عین — اگست 5، 2018 5:53 شام
اصلاح کے بعد یہاں پوسٹ کیا کریں
صدف رباب — اگست 5، 2018 6:22 شام
اصلاح کے بعد یہاں پوسٹ کیا کریں
جی ضرور انشاءاللّه ..

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.102658/