غزل

خورشید بھارتی — اکتوبر 19، 2018 9:41 صبح
غزل
میں تری یاد کے خمار میں گم
اور وہ اپنے کاروبار میں گم
ایک سایہ ابھی تھاکمرےمیں
ہو گیا کیسے وہ دیوار میں گم
میں کسی اور کی تلاش میں ہوں
اور وہ دوسرے شکار میں گم
کوئی وعدہ نہیں ہے آنے کا
پھر بھی ہوں تیرے انتظار میں گم
گنگنانے لگے ہو تم غزلیں
ہو گئے کیا کسی کے پیارسے میں گم
شان و شوکت ہماری پرکھوں کی
ہو گئی تاج کے مینا ر میں گم
خورشید بھارتی
انڈیا
جاسمن — اکتوبر 19، 2018 10:03 صبح
گنگنانے لگے ہو تم غزلیں
ہو گئے کیا کسی کے پیارسے میں گم
شان و شوکت ہماری پرکھوں کی
ہو گئی تاج کے مینا ر میں گم
پہلے شعر کے دوسرے مصرع میں "سے" اضافی ہے۔
دوسرے شعر کے دوسرے مصرع میں مینار کا ر مینا کے قریب کریں۔
اچھی غزل ہے۔
بھارتی کے بعد انڈیا بھی لکھنا اضافی لگ رہا ہے۔ :)
سلامت رہیں۔آمین!
الف عین — اکتوبر 19، 2018 11:23 صبح
پہلے شعر کے دوسرے مصرع میں "سے" اضافی ہے۔
دوسرے شعر کے دوسرے مصرع میں مینار کا ر مینا کے قریب کریں۔
اچھی غزل ہے۔
بھارتی کے بعد انڈیا بھی لکھنا اضافی لگ رہا ہے۔ :)
سلامت رہیں۔آمین!
یہ اصلاح سخن کے تحت نہیں اس لیے کچھ کہنا مشکل ہے۔ جب جاسمن نے بھی کہہ دیا ہے تو میں بھی بزرگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہہ دوں کہ ہندی والے بھلے ہی اس طرح جائز مان لیں لیکن مجھے دِوار اور مِنار قطعی پسند نہیں
جاسمن — اکتوبر 19، 2018 12:17 شام
مینار۔۔۔۔۔۔لفظ میں "ر" مینا سے دور ہے۔ اس میں سپیس دے دی گئی ہے جو غلط ہے۔
خورشید بھارتی — نومبر 10، 2018 9:06 صبح
پہلے شعر کے دوسرے مصرع میں "سے" اضافی ہے۔
دوسرے شعر کے دوسرے مصرع میں مینار کا ر مینا کے قریب کریں۔
اچھی غزل ہے۔
بھارتی کے بعد انڈیا بھی لکھنا اضافی لگ رہا ہے۔ :)
سلامت رہیں۔آمین!
پہلے شعر کے دوسرے مصرع میں "سے" تو نہیں ہے محترم۔۔۔کیسے ۔۔۔۔مراد تو نہیں
جاسمن — نومبر 10، 2018 1:18 شام
گنگنانے لگے ہو تم غزلیں
ہو گئے کیا کسی کے پیارسے میں گم
خورشید۔
اس میں دیکھیے۔
خورشید بھارتی — نومبر 14، 2018 4:09 شام
خورشید۔
اس میں دیکھیے۔
اوہ۔۔۔۔۔۔پیار میں گم۔۔۔۔۔ہے۔شکریہ
منیب الف — نومبر 25، 2018 8:32 صبح
واہ خورشید صاحب!
کوئی وعدہ نہیں ہے آنے کا
پھر بھی ہوں تیرے انتظار میں گم
کیا کہنے!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.103774/