غزل

خورشید بھارتی — جون 26، 2020 5:21 شام
گئے دن کی نشانی ہو گئی ہے
مری تختی پرانی ہو گئی ہے
گلوں نے خودکشی کرلی یہ سن کر
خزاں کی حکمرانی ہو گئی ہے
اچانک مل گئے جو آپ ہم سے
یہ رت کتنی سہانی ہو گئی ہے
ضرورت سے فقط ملتی ہے ہم سے
بہت دنیا سیانی ہو گئی ہے
نسیں دکھلاتی ہے ہاتھوں کی اکثر
وہ اک لڑکی دیوانی ہو گئی ہے
فقط اب رینگتی ہے گھر کے اندر
عذاب اک زندگانی ہو گئی ہے
فضا میں زہر ہے نفرت کا ایسا
ہوا بھی زعفرانی ہو گئ ہے
خورشید بھارتی
واسلیگنج،سول لائن،
مرزاپور، یو۔پی
انڈیا
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 28، 2020 2:30 صبح
واہ، ماشاء اللہ... اچھی غزل ہے.
نسیں دکھلاتی ہے ہاتھوں کی اکثر
وہ اک لڑکی دیوانی ہو گئی ہے
برا نہ مانیں تو یہ عرض کرنے کی جرأت کروں گا یہ شعر دیگر اشعار کے معیار کا نہیں لگا.
دعا گو،
راحل.
محمد شکیل خورشید — جون 30، 2020 8:05 صبح
خوب
خورشید بھارتی — جون 30، 2020 10:31 صبح
واہ، ماشاء اللہ... اچھی غزل ہے.
برا نہ مانیں تو یہ عرض کرنے کی جرأت کروں گا یہ شعر دیگر اشعار کے معیار کا نہیں لگا.
دعا گو،
راحل.
ہوسکتا ہے۔۔۔۔
سلامت رہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.112215/