غزل

اقرار مصطفی — جون 29، 2020 2:34 شام
یوں بابِ حسنِ یار کھلا میرے سامنے
مرنے سے پہلے آئی قضا میرے سامنے
صدیوں کی پیاس،چور بدن اور مسافتیں
منزل ملی نہ رستہ رہا میرے سامنے۔۔۔۔۔۔۔
جس کی سخن وری کا تھا شہرِ ادب میں شور
ابھری نہ کیوں پھر اُس کی صدا میرے سامنے
جب بجھ گئے چراغ تو پھر دم بخود ہے کیوں
مغرور کس لیے ہے ہوا میرے سامنے۔۔۔۔۔!
بے انتہا خوشی تھی چھپائے نہ چھپ سکی
جب تُو نے میرا نام لیا میرے سامنے۔۔۔۔
ماں!تُو بھی جا کے موت کے پہلو میں سو گئی
اب کون دے مجھ کو دعا میرے سامنے
اقرار میں بھی کرتا نہ کیوں اُس کی ذات کا
ہر روپ میں عیاں تھا خدا میرے سامنے
اقرار مصطفی
سید عاطف علی — جون 29، 2020 2:41 شام
اب کون دے مجھ کو دعا میرے سامنے
واہ خوب ۔
اس مصرع میں شاید 'گا' چھوٹ گیا غلطی سے۔
شکیب — جون 29، 2020 2:54 شام
بہت اچھی غزل ہے اقرار صاحب!
بے انتہا خوشی تھی چھپائے نہ چھپ سکی
جب تُو نے میرا نام لیا میرے سامنے۔
زبردست۔
شکیب — جون 29، 2020 2:59 شام
آپ نے اپنا تعارف نہیں کرایا۔ یہاں ایک نئی لڑی بنا کر پیش کیجیے۔
تعارف و انٹرویو
اقرار مصطفی — جون 29، 2020 5:09 شام
واہ خوب ۔
اس مصرع میں شاید 'گا' چھوٹ گیا غلطی سے۔
جی، بلکل، لکھنے میں رہ گیا
اقرار مصطفی — جون 29، 2020 5:10 شام
بہت اچھی غزل ہے اقرار صاحب!
زبردست۔
متشکرم

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.112256/