غزل

Faizan ahmed — اگست 3، 2020 9:48 شام
ترا خیال ہی بوئے گلاب جیسا ہے
ترے جمال کانشہ شراب جیسا ہے
فراق یار میں ہر پل عذاب جیسا ہے
سلگ سلگ کے ہوا دل کباب جیسا ہے
گواہی دیتا ہے ہر عضو اس کے باطن کی
نظر اٹھائے تو چہرہ کتا ب جیسا ہے
ذرا سنبھال کے آگے قدم بڑھاؤ تم
شباب آیا ابھی موج آب جیسا ہے
سکون دل کو ترستی ہے جیسے دنیا اب
نشان رخ پہ ابھی اضطراب جیسا ہے
کبھی وہ کاش دے جنبش لبوں کو بھی اپنے
سکوت اس کا ہمیشہ عتاب جیسا ہے
ملے ہیں خاک میں آئے زمیں پہ جتنے ہیں
غرور روئے زمیں پر حباب جیسا ہے
فیضان احمد اعظمی
محمد احسن سمیع راحلؔ — اگست 4، 2020 9:06 صبح
اچھی غزل ہے فیضان صاحب، ماشاء اللہ
کافی عرصہ بعد نشہ کا قدیمی (یا اصل) تلفظ دیکھ کر اچھا لگا :)
دعاگو،
راحلؔ
Faizan ahmed — اگست 4، 2020 11:48 صبح
اچھی غزل ہے فیضان صاحب، ماشاء اللہ
کافی عرصہ بعد نشہ کا قدیمی (یا اصل) تلفظ دیکھ کر اچھا لگا :)
دعاگو،
راحلؔ
بہت بہت آپ کا شکریہ سلامت رہیں
ظہیراحمدظہیر — اگست 5، 2020 10:54 شام
بہت خوب! اچھی کاوش ہے جناب!
بزمِ سخن میں خوش آمدید جناب فیضان احمد صاحب! امید ہے آپ رونق بخشتے رہیں گے ۔
اس مصرع کو ذرا دیکھ لیجئے: ذرا سنبھال کے آگے قدم بڑھاؤ تم
یہاں سنبھال نہیں بلکہ سنبھل کر قدم بڑھانا درست ہے ۔
Faizan ahmed — اگست 6، 2020 1:59 شام
بہت خوب! اچھی کاوش ہے جناب!
بزمِ سخن میں خوش آمدید جناب فیضان احمد صاحب! امید ہے آپ رونق بخشتے رہیں گے ۔
اس مصرع کو ذرا دیکھ لیجئے: ذرا سنبھال کے آگے قدم بڑھاؤ تم
یہاں سنبھال نہیں بلکہ سنبھل کر قدم بڑھانا درست ہے ۔
توجہ فرمائی کا بہت بہت شکریہ
جزاک اللہ
صابرہ امین — اگست 6، 2020 2:03 شام
بہت خوب ۔ ۔ عمدہ اشعار ۔ ۔ ماشا اللہ:)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.112690/