Tahira Masood — اپریل 17، 2022 12:53 صبح
تازہ ترین غزل
حالتِ اضطرار ہے کیسی
روح یہ بے قرار ہے کیسی
سانس گھٹنے لگی ہے سینے میں
آنکھ اختر شمار ہے کیسی
ہیں چمن میں اداس گُل بوٹے
اب کے آئی بہار ہے کیسی
ذکر پر اس کے دل پگھلتا ہے
اس پہ یہ جاں نثار ہے کیسی
میری صورت پلٹ کے دیکھ ذرا
دل کی آئینہ دار ہے کیسی
نئی تہذیب الاَمان و حفیظ
خود سے یہ شرمسار ہے کیسی
پھول دیتی ہے زخم دینے کے بعد
زندگی غم گسار ہے کیسی
طاہرہ مسعود
الف عین — اپریل 17، 2022 7:08 صبح
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ
ایس ایس ساگر — اپریل 17، 2022 9:29 صبح
حالتِ اضطرار ہے کیسی
روح یہ بے قرار ہے کیسی
سانس گھٹنے لگی ہے سینے میں
آنکھ اختر شمار ہے کیسی
ہیں چمن میں اداس گُل بوٹے
اب کے آئی بہار ہے کیسی
ذکر پر اس کے دل پگھلتا ہے
اس پہ یہ جاں نثار ہے کیسی
میری صورت پلٹ کے دیکھ ذرا
دل کی آئینہ دار ہے کیسی
نئی تہذیب الاَمان و حفیظ
خود سے یہ شرمسار ہے کیسی
پھول دیتی ہے زخم دینے کے بعد
زندگی غم گسار ہے کیسی
واہ۔ بہت خوب۔
خوبصورت اشعار ہیں۔ ماشاءاللہ
جیتی رہیئے طاہرہ مسعود بہنا۔آمین۔
یاسر شاہ — اپریل 17، 2022 12:58 شام
ہیں چمن میں اداس گُل بوٹے
اب کے آئی بہار ہے کیسی
واہ
Tahira Masood — اپریل 18، 2022 12:02 صبح
واہ۔ بہت خوب۔
خوبصورت اشعار ہیں۔ ماشاءاللہ
جیتی رہیئے طاہرہ مسعود بہنا۔آمین۔
شکر گزار ہوں۔ خوش رہیے
Tahira Masood — اپریل 18، 2022 12:03 صبح
Tahira Masood — اپریل 18، 2022 12:03 صبح
جزاءک اللہ بہت شکرگزارہوں
امین شارق — اپریل 18، 2022 1:36 صبح
جس کی تعریف کی استادوں نے
غزل یہ شان دار ہے کیسی
Tahira Masood — اپریل 18، 2022 11:46 شام
جس کی تعریف کی استادوں نے
غزل یہ شان دار ہے کیسی
بہت شکر گزارہوں اس حوصلہ افزائی کے لیے
عرفان علوی — اپریل 19، 2022 2:42 صبح
تازہ ترین غزل
حالتِ اضطرار ہے کیسی
روح یہ بے قرار ہے کیسی
سانس گھٹنے لگی ہے سینے میں
آنکھ اختر شمار ہے کیسی
ہیں چمن میں اداس گُل بوٹے
اب کے آئی بہار ہے کیسی
ذکر پر اس کے دل پگھلتا ہے
اس پہ یہ جاں نثار ہے کیسی
میری صورت پلٹ کے دیکھ ذرا
دل کی آئینہ دار ہے کیسی
نئی تہذیب الاَمان و حفیظ
خود سے یہ شرمسار ہے کیسی
پھول دیتی ہے زخم دینے کے بعد
زندگی غم گسار ہے کیسی
طاہرہ مسعود
طاہرہ صاحبہ ، خوب غزل ہے . داد قبول فرمائیے .
Tahira Masood — اپریل 19، 2022 10:19 شام
طاہرہ صاحبہ ، خوب غزل ہے . داد قبول فرمائیے .
بے حد شکر گزار ہوں اس فراخدلی سے کلام کو سراہنے کے لیے۔ دلی شلریہ