غزل

خورشید بھارتی — مئی 17، 2025 4:48 شام
روٹھے بچوں کی طرح گھر سے نکل جاتے ہیں
آج ہم کوچہء دلبر‌‌ سے نکل جاتے ہیں
دیکھئے جسکو وہی لے کے کھڑا ہے خنجر
ہم ترے شہر ستمگر سے نکل جاتے ہیں
لوگ مصروف بہت رہتے ہیں بستی کے مری
شور سنتے ہی سبھی گھر سے نکل جاتے ہیں
اب بلانے پہ بھی واپس نہیں آنے والے
ہم‌ تری آنکھوں کے منظر سے نکل جاتے ہیں
کتنے حالات سے مجبور ہوئے ہونگے وہ
چھوڑ کر اپنوں کو جو گھر سے نکل جاتے ہیں
یہ مری ماں دعاؤں کا اثر ہے خورشید
تیر کر ہم جو سمندر سے نکل جاتے ہیں
خورشید بھارتی
انڈیا
الف عین — مئی 17، 2025 8:37 شام
خورشید میاں یہاں کوچۂ دلبر ہی ہم کو چھوڑ کر جانے والا ہے! یعنی محفل کا چل چلاؤ لگا ہوا ہے!
ویسے اچھی غزل ہے
یاز — مئی 17، 2025 10:52 شام
بہت عمدہ غزل ہے جناب۔
جاسمن — مئی 18، 2025 4:16 صبح
خوبصورت اشعار۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.121460/