غزل

ناہید — اکتوبر 10، 2008 1:54 شام
آنکھ سے غم نہاں نہیں ہوتے
پھر بھی آنسو رواں نہیں ہوتے
ہم کلام اُن سے ہیں تصوّر میں
اصل میں یہ سماں نہیں ہوتے
یوں تو کہنے کو ہم نہیں موجود
پر یہ سوچو کہاں نہیں ہوتے
عمر بھر کا ہے تیرا میرا ساتھ
اس قدر بدگماں نہیں ہوتے
پیار ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
اس میں وہم و گماں نہیں ہوتے

شکریہ
ناہید
شمشاد — اکتوبر 10، 2008 3:28 شام
بہت شکریہ ناہید صاحبہ اپنا کلام شریکِ محفل کرنے کا۔
آصف شفیع — اکتوبر 10، 2008 8:42 شام
عمر بھر کا ہے تیرا میرا ساتھ
اس قدر بدگماں نہیں ہوتے
خوبصورت اشعار ہیں غزل کے۔ شیئر کرنے شکریہ۔
ایم اے راجا — اکتوبر 10، 2008 8:43 شام
بہت خوب ناہید صاحبہ
محمد وارث — اکتوبر 11، 2008 4:33 صبح
یوں تو کہنے کو ہم نہیں موجود
پر یہ سوچو کہاں نہیں ہوتے
لا جواب!
ش زاد — دسمبر 5، 2008 1:00 شام
عمر بھر کا ہے تیرا میرا ساتھ
اس قدر بدگماں نہیں ہوتے
پیار ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
اس میں وہم و گماں نہیں ہوتے
واہ کیا ہی اچھے اشعار ہیں
بہت عمدہ ناہید صاحبہ
الف عین — دسمبر 5، 2008 3:06 شام
ارے یہ غزل میری نظروں سے اوجھل رہی۔۔
ناہید اگر اجازت ہو تو اس کو ’سمت‘ کے اگلے شمارے کے لئے لے لوں۔۔پہلے ہی ایک غزل کے لئے میں شرمندہ ہوں کہ جانے کس طرح ڈیلیٹ ہو گئی میل باکس سے۔ اس بار بلکہ تمہارا گوشہ ہی بنا دیا جائے۔ کیا خیال ہے، امید ہے کہ تم پر کچھ مضامین دستیاب ہوں گے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.15583/