غزل

سلیمان جاذب — جولائی 14، 2009 7:37 صبح
نگاہیں بھی ہم سے چراتے رہے
مگر زیرِلب مُسکراتے رہے
مُکمل نہ کر پائے تصویر کو
بناتے رہے اور مٹاتے رہے
اُڑی تھی خبر آج آئیں گے وہ
ستارے بھی سب جگمگاتے رہے
گلوں کی طرف ہاتھ بڑھ نہ سکا
گُلِستاں سے کانٹے ہٹاتے ہے
جو ہیں در بدر کوئی شکوہ نہیں
کہ ساحِل پہ گھر ہم بناتے رہے
توجہ سے جاذب سنی رات بھر
کہانی وہ جو بھی سناتے رہ
سلیمان جاذب — جولائی 14، 2009 7:39 صبح
عبید صاحب ، وارث بھائی ، م م مغل بھائی ، شناور بھائی اور آپ سب کی نظر
الف عین — جولائی 14، 2009 10:50 صبح
عبید صاحب ، وارث بھائی ، م م مغل بھائی ، شناور بھائی اور آپ سب کی نظر
عزیزم ۔ میری ’نذر‘ کرنے کا شکریہ۔
سچی رائے چاہئے یا ۔۔۔۔۔
کوئی خاص نہیں لگی،
مطلع سوقیانہ ہے
مُکمل نہ کر پائے تصویر کو
بناتے رہے اور مٹاتے رہے
میں بات بغیر ’کو‘ کے درست ہو جاتی ہے پہلے مصرعے میں، اس کی جگہ بھی کر دیں۔
اور
گلوں کی طرف ہاتھ بڑھ نہ سکا
کا ’نہ‘ میرے گلے نہیں اترتا۔
سلیمان جاذب — جولائی 14، 2009 12:25 شام
عزیزم ۔ میری ’نذر‘ کرنے کا شکریہ۔
سچی رائے چاہئے یا ۔۔۔۔۔
کوئی خاص نہیں لگی،
مطلع سوقیانہ ہے
مُکمل نہ کر پائے تصویر کو
بناتے رہے اور مٹاتے رہے
میں بات بغیر ’کو‘ کے درست ہو جاتی ہے پہلے مصرعے میں، اس کی جگہ بھی کر دیں۔
اور
گلوں کی طرف ہاتھ بڑھ نہ سکا
کا ’نہ‘ میرے گلے نہیں اترتا۔

بہت بہت شکریہ عبید صاحب
آپ کا حکم سر آنکھوں پر
مطلع کو تو ٹھیک نہیں کر پایا لیکن باقی کا کچھ یوں کیا ہے
مُکمل نہ کر پائے تصویر ہم
بناتے رہے اور مٹاتے رہے
گلوں کی طرف ہاتھ بڑھتا ہی کیوں ؟
گلستاں سے کانٹے ہٹاتے رہے
الف عین — جولائی 14، 2009 5:47 شام
شکریہ سلیمان۔ میری بات کو اہمیت دینے کا۔
سلیمان جاذب — جولائی 15، 2009 7:11 صبح
شکریہ سلیمان۔ میری بات کو اہمیت دینے کا۔

سر جی کیسی
بات کرتے ہیں آپ تو شرمندہ کر رہے ہیں آپ کا حکم سر آنکھوں پر آپ میرے استاد کا درجہ رکھتے ہیں
عمران شناور — جولائی 17، 2009 9:38 صبح
سلیمان جاذب صاحب غزل نام کرنے کے لیے شکریہ!
اچھی غزل ہے۔ مطلع پر بھی :idea2: لگائیں
مغزل — جولائی 17، 2009 10:38 صبح
جی ہاں ، ایطا شائگاں ۔۔
شکریہ جاذب ، نظر کرنے کو ۔ بقول با با جانی ’’ نذر ‘‘ کرنے کو۔
غز ل برائے غزل ہے ، کوئی ایسی بات نہیں کہ آپ کو دھوکے میں رکھا جائے
سدا سلامت شاد باد۔
اللہ کرے زورِ قلم مشقِ سخن تیز۔
الف عین — جولائی 17، 2009 12:18 شام
ارے یہ تو میں نے دیکھا ہی نہیں کہ مطلع میں ایطا بھی ہے۔ در اصل وہ مجھے سوقیانہ لگا تو آگے اس کو بغور دیکھا ہی نہیں۔
سلیمان جاذب — جولائی 17، 2009 7:23 شام
سلیمان جاذب صاحب غزل نام کرنے کے لیے شکریہ!
اچھی غزل ہے۔ مطلع پر بھی :idea2: لگائیں

اچھا جی
نوازش بھائی جان
سلیمان جاذب — جولائی 17، 2009 7:26 شام
جی ہاں ، ایطا شائگاں ۔۔
شکریہ جاذب ، نظر کرنے کو ۔ بقول با با جانی ’’ نذر ‘‘ کرنے کو۔
غز ل برائے غزل ہے ، کوئی ایسی بات نہیں کہ آپ کو دھوکے میں رکھا جائے
سدا سلامت شاد باد۔
اللہ کرے زورِ قلم مشقِ سخن تیز۔
بس بھائی جان آپ کی دعاوں کی ضرورت ہے
باس اللہ کرے زور قلم سخن تیز امین
سلیمان جاذب — جولائی 17، 2009 7:28 شام
ارے یہ تو میں نے دیکھا ہی نہیں کہ مطلع میں ایطا بھی ہے۔ در اصل وہ مجھے سوقیانہ لگا تو آگے اس کو بغور دیکھا ہی نہیں۔

عبید صاحب بہت شکریہ اس نوازش کا۔ آپ کا ایک نظر دیکھ لینا ہی ہمارے لئے باعث مسرت ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.23767/