غزل

dilshadnazmi — نومبر 30، 2006 9:43 شام
خرد کا صفحہ ء تدبیر سادہ کر لیا جائے
مِری دیوانگی سے استفادہ کر لیا جائے
کسی کی خامشی کا تجزیہ ایسے بھی ممکن ہے
کسی کا ذکر محفل میں زیادہ کر لیا جائے
پیادے کیا بتائیں گے مزاج ِ آبلہ پائی
ضرورت ہے سواروں کو پیادہ کر لیا جائے
کبھی تا عمر اک وعدہ ،وفا ہوتا نہیں ،لیکن
بہت آسان ہے ہر اک سے وعدہ کر لیا جائے
یہ چھوٹے ذہن والوں نے اَ ٹھا رکھی ہیں دیواریں
چلو دلشاد اپنا دل کشادہ کر لیا جائے
آپ کی آ راء کا منتظر ہوں
الف عین — دسمبر 1، 2006 6:59 صبح
باز خوش آمدید دلشاد۔ عرصے کے بعد یہاں “قلم رنجہ“ کیا ہے۔
اچگئی غزل ہے، سمت کے لئے یہی یا کچھ اور؟؟؟
عمر سیف — دسمبر 1، 2006 12:23 شام
بہت خوب۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.4888/