غزل

Mubarak Khan — جولائی 24، 2015 1:53 شام
اجڑ رہا ہے وطن بستیوں کا گلہ کیا کرنا
غیر کے گھر میں گرہستیوں کا گلہ کیا کرنا
کاٹ ڈالے ہیں تم نے جو تھے با ثمرشجر
اب ان خشک جھاڑیوں کا گلہ کیا کرنا
بوجھ پڑتا نہیں کسی پہ ہمت سے سوا
ہار دے ہمت تو مجبوریوں کا گلہ کیا کرنا
نشیب و افراز ہیں زندگی کا وجود
پھر زندگی میں تبدیلیوں کا گلہ کیا کرنا
چل پڑیں تو کٹ ہی جاتی ہیں منزلیں
جو بیٹھ رہے تو دوریوں کا گلہ کیا کرنا
واسطہ ہو تو آ جاتے ہیں دور دور سے لوگ
جو کٹ گیےٗ تو تنہایوں کا گلہ کیا کرنا
زندگی کی جنگ میں ہیں جب نکل پڑے
تو زخموں کی گہراہیوں کا گلہ کیا کرنا
محمد یعقوب آسی — جولائی 24، 2015 2:59 شام
اجڑ رہا ہے وطن بستیوں کا گلہ کیا کرنا
غیر کے گھر میں گرہستیوں کا گلہ کیا کرنا

مجھے نہیں پتہ کہ آپ کب سے مشقِ سخن کر رہے ہیں، اور آپ کا شوقِ مطالعہ کس نہج پر ہے، اور یہ کاوش کب کی ہے، اس کے بعد کی آپ کی کاوشیں کیسی ہیں۔ زیرِ نظر کاوش سے لگتا ہے کہ آپ کے ہاں تخیل اور اس کی مراعات مضبوط ہیں، اوزان کے ادراک میں البتہ مسئلہ ہے۔ آپ کو شعر میں ہنوز بہت مطالعہ اور محنت کی ضرورت ہے۔
کوشش جاری رکھئے۔
نایاب — جولائی 24، 2015 4:50 شام
بہت خوب کوشش
بہت دعائیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.83552/