نوشین فاطمہ عبدالحق — اپریل 14، 2016 5:31 صبح
محبت بڑی خوب صورت بلا ہے
درندوں میں شفقت اسی کی عطا ہے
گلوں کا بدن کیوں مسلنے لگی ہے
نہ جانے ہوا پر جنوں کیا چڑها ہے
مرے قرب کی ضد میں نادان سورج
قمر کی رقابت میں جلنے لگا ہے
جہاں تتلیاں ہوش کهونے لگیں ہوں
وہاں گل کو خوشبو بهی اک بددعا ہے
کٹهن رہگزر سے سبق سیکهنا ہو
تو دشوار راہوں کا اپنا مزہ ہے
ہمیں رہ دکهاتے ہوئے ایک جگنو
بچارہ بهٹکتا چلا جا رہا ہے
پتنگے فدا ہو گئے لیک نوشی !
نہ شمع ان کو حاصل ، نہ راضی خدا ہے .
ظہیراحمدظہیر — اپریل 19، 2016 11:44 شام
بہت خوب!
’’جہاں تتلیاں ہوش کهونے لگیں ہوں‘‘ یہاں لگی ہوں درست ہوگا ۔
پتنگے فدا ہو گئے لیک نوشی ! ۔ لیک اس شعر میں بہت عجیب لگ رہا ہے ۔ متروک ہے ۔ ’’پتنگے فدا ہوگئے نوشی ، لیکن ‘‘ کہنے میں کیا حرج ہے ۔ ی کا دبنا لیک کے استعمال سے پھر بہتر ہے ۔ صرف ایک تجویز ہے ۔
راحیل فاروق — اپریل 20، 2016 12:16 صبح
سلامت باشید۔
ہمیں رہ دکهاتے ہوئے ایک جگنو
بچارہ بهٹکتا چلا جا رہا ہے
کیا کہنے!
لیک اس شعر میں بہت عجیب لگ رہا ہے ۔
متفق!
’’پتنگے فدا ہوگئے نوشی ، لیکن ‘‘ کہنے میں کیا حرج ہے ۔ ی کا دبنا لیک کے استعمال سے پھر بہتر ہے ۔ صرف ایک تجویز ہے ۔
پتنگے فدا ہو گئے
پھر بھی، نوشی
یہ بھی صرف ایک تجویز ہی ہے گو کہ شاعرہ نے طلب نہیں کی۔

نوشین فاطمہ عبدالحق — اپریل 20، 2016 5:51 شام
بہت خوب!
’’جہاں تتلیاں ہوش کهونے لگیں ہوں‘‘ یہاں لگی ہوں درست ہوگا ۔
پتنگے فدا ہو گئے لیک نوشی ! ۔ لیک اس شعر میں بہت عجیب لگ رہا ہے ۔ متروک ہے ۔ ’’پتنگے فدا ہوگئے نوشی ، لیکن ‘‘ کہنے میں کیا حرج ہے ۔ ی کا دبنا لیک کے استعمال سے پھر بہتر ہے ۔ صرف ایک تجویز ہے ۔
اصلاح اور تجویز کے لیے بےحد شکریہ . سلامت رہیں .
نوشین فاطمہ عبدالحق — اپریل 20، 2016 5:52 شام
سلامت باشید۔
کیا کہنے!
متفق!
پتنگے فدا ہو گئے
پھر بھی، نوشی
یہ بھی صرف ایک تجویز ہی ہے گو کہ شاعرہ نے طلب نہیں کی۔
اچهی تجویز ہے . قبول کی گئی .

محمد تابش صدیقی — اپریل 20، 2016 6:07 شام
کٹھن رہگزر سے سبق سیکھنا ہو
تو دشوار راہوں کا اپنا مزہ ہے
ہمیں رہ دکھاتے ہوئے ایک جگنو
بچارہ بھٹکتا چلا جا رہا ہے
کیا ادراک ہے۔ بہت خوب۔
نوشین فاطمہ عبدالحق — اپریل 20، 2016 6:13 شام
نوازش .

عاطف ملک — مارچ 30، 2017 9:24 شام
جہاں تتلیاں ہوش کهونے لگیں ہوں
وہاں گل کو خوشبو بهی اک بددعا ہے
ہمیں رہ دکهاتے ہوئے ایک جگنو
بچارہ بهٹکتا چلا جا رہا ہے
بہت سی دعائیں ہیں آپ کیلیے محترمہ!
سلامت رہیں
پڑھے جا رہا ہوں غزل بر غزل میں
نہ جانے مجھے آج کیا ہو چلا ہے
نوشین فاطمہ عبدالحق — مارچ 31، 2017 6:12 صبح
بہت سی دعائیں ہیں آپ کیلیے محترمہ!
سلامت رہیں
پڑھے جا رہا ہوں غزل بر غزل میں
نہ جانے مجھے آج کیا ہو چلا ہے

آداب ، مولا سلامت رکھے ۔
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 24، 2017 5:34 شام
محبت بڑی خوب صورت بلا ہے
درندوں میں شفقت اسی کی عطا ہے
گلوں کا بدن کیوں مسلنے لگی ہے
نہ جانے ہوا پر جنوں کیا چڑها ہے
مرے قرب کی ضد میں نادان سورج
قمر کی رقابت میں جلنے لگا ہے
جہاں تتلیاں ہوش کهونے لگیں ہوں
وہاں گل کو خوشبو بهی اک بددعا ہے
کٹهن رہگزر سے سبق سیکهنا ہو
تو دشوار راہوں کا اپنا مزہ ہے
ہمیں رہ دکهاتے ہوئے ایک جگنو
بچارہ بهٹکتا چلا جا رہا ہے
پتنگے فدا ہو گئے لیک نوشی !
نہ شمع ان کو حاصل ، نہ راضی خدا ہے .
کیا کہنے ۔ خوبصورت
ایک صلاح
پتنگے فدا ہوگئے جبکہ نوشی
اسد اقبال — مئی 30، 2017 8:05 صبح
بہت خوب
لاریب مرزا — مئی 30، 2017 8:18 صبح
محبت بڑی خوب صورت بلا ہے
درندوں میں شفقت اسی کی عطا ہے
گلوں کا بدن کیوں مسلنے لگی ہے
نہ جانے ہوا پر جنوں کیا چڑها ہے
مرے قرب کی ضد میں نادان سورج
قمر کی رقابت میں جلنے لگا ہے
جہاں تتلیاں ہوش کهونے لگیں ہوں
وہاں گل کو خوشبو بهی اک بددعا ہے
کٹهن رہگزر سے سبق سیکهنا ہو
تو دشوار راہوں کا اپنا مزہ ہے
ہمیں رہ دکهاتے ہوئے ایک جگنو
بچارہ بهٹکتا چلا جا رہا ہے
پتنگے فدا ہو گئے لیک نوشی !
نہ شمع ان کو حاصل ، نہ راضی خدا ہے .
واہ!! بہت خوب!!
محمداحمد — جون 3، 2017 8:18 صبح
بہت اچھی غزل ہے نوشین صاحبہ!
بہت سی داد!
نوشین فاطمہ عبدالحق — جون 27، 2017 4:13 شام
بہت اچھی غزل ہے نوشین صاحبہ!
بہت سی داد!
بہت شکریہ
جیتے رہیں