غزل

مدثر عباس منیر — نومبر 18، 2016 6:56 شام
خدا کا خوف کرو کچه تم
خدا کیسے بنے ہو تم
مرے ہیں لوگ وعدے میں
دغا ہر دم بنے ہو تم
مرے دکه پہ دلاسا ہو
مگر ہر دم ہسے ہو تم
بشر خوں میں نہایا ہے
خدا جب جب بنے ہو تم
نظر ہم کو نہیں آتے
بتا قصدا چهپے ہو تم
الف عین — نومبر 19، 2016 4:58 صبح
ایک ہی غزل تین جگہ!!! خدا کا خوف کرو کچھ تم!!!
اصلاح سخن میں ہی درست ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.93101/