غزل

عابد علی خاکسار — مئی 2، 2017 12:34 شام
نہ پھوٹے گی جب تک سحر جاگنا ہے
ستارو ہمیں رات بھر جاگنا ہے
مرے ہم نشیں تیرگی ہے تو کیا غم
ہمیں تو جلا کے جگر جاگنا ہے
ابھی سے تمھیں نیند آنے لگی ہے
ہمیں تو یہ سارا سفر جاگنا ہے
جو تھا رہنما مل گیا رہزنوں سے
کرو قافلے کو خبر،جاگنا ہے
یہ عابد سے کہہ دو کہیں سو نہ جاے
سحر تک اسے سر بسر جاگنا ہے
محمد عظیم الدین — مئی 2، 2017 12:43 شام
یہ عابد سے کہہ دو کہیں سو نہ جاے
سحر تک اسے سر بسر جاگنا ہے
بہت خوب عابد بھائی
عابد علی خاکسار — مئی 2، 2017 12:46 شام
بہت خوب عابد بھائی
بہت شکریہ یہ آپ کی ذرہ نوازی ہے
الف عین — مئی 2، 2017 3:52 شام
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ
عابد علی خاکسار — مئی 2، 2017 8:26 شام
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ
بہت شکریہ سر۔ آپ کی داد میرے لیے گولڈ میڈل سے کم نہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84.96171/