غزل - بہت سی سازشوں کے درمیاں ہوں -

عظیم — جنوری 4، 2015 3:14 شام

بہت سی سازشوں کے درمیاں ہوں
نہایت کافروں کے درمیاں ہوں
کروں کس پر یقیں کوئی بتائے
میں ایسے عابدوں کے درمیاں ہوں
لگائی جا رہی ہے میری قیمت
خودی کے تاجروں کے درمیاں ہوں
میں چھپ کر بیٹھتا ہوں خود سے لیکن
بہت سے ظاہروں کے درمیاں ہوں
یہاں اِس بزمِ غیراں میں مرے دوست
تجھ ایسے دشمنوں کے درمیاں ہوں
کسے جا کر دکھاؤں علم اپنا
ازل سے جاہلوں کے درمیاں ہوں
مری رفتار دیکھی جا سکے کیوں
بڑے ہی کاہلوں کے درمیاں ہوں
مجھے معلوم ہے اپنی حقیقت
میں تیرے غافلوں کے درمیاں ہوں
عظیم اپنی کہی کس کو سناؤں
عجب سے عاقلوں کے درمیاں ہوں
خالد محمود چوہدری — جنوری 4، 2015 4:30 شام
کہاں چلے گئے تھے جناب؟ محفل اداس کر کے
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 4، 2015 4:31 شام
کہاں چلے گئے تھے جناب؟ محفل اداس کر کے
ظاہر ہے دشمنوں کے درمیاں سے دوستوں کے درمیاں گئے تھے:)
عظیم — جنوری 5، 2015 10:46 صبح
کہاں چلے گئے تھے جناب؟ محفل اداس کر کے

کہیں نہیں خالد بھائی یہیں تھا ۔
عظیم — جنوری 5، 2015 10:55 صبح
ظاہر ہے دشمنوں کے درمیاں سے دوستوں کے درمیاں گئے تھے:)

بہت شکریہ خلیل بھائی ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%DB%81%D8%AA-%D8%B3%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D8%B2%D8%B4%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA-%DB%81%D9%88%DA%BA.79597/