غزل - تمھاری فتح کا اعلان کرنا چاھتا ہے

ایس فصیح ربانی — ستمبر 18، 2010 7:28 شام
شاہین فصیحؔ ربانی
غزل
تمہاری فتح کا اعلان کرنا چاہتا ہے
زمانہ تم کو یوں حیران کرنا چاہتا ہے
اسے کہیے کہ میری مشکلیں بڑھنے لگی ہیں
جو میری مشکلیں آسان کرنا چاہتا ہے
اِسی میں فائدہ مضمر ہے میرا‘ جانتا ہوں
اگرچہ وہ مرا نقصان کرنا چاہتا ہے
دعائیں اُس کی خیریت کی ہیں میرے لبوں پر
جو میرے شہر کو ویران کرنا چاہتا ہے
یہ خنجر کیوں اُٹھا رکھّے ہیں اُس نے‘کچھ تو کہیے
اگر وہ درد کا درمان کرنا چاہتا ہے
وہ پھر ملنے لگا ہے مہرباں ہو کر‘ کہوں کیا
وہ پھر مجھ پر کوئی احسان کرنا چاہتا ہے
فصیحؔ اُس کو ہواؤں کی حمایت مل نہ جائے
وہ دنیا میں بپا طوفان کرنا چاہتا ہے
محمد وارث — ستمبر 18، 2010 10:22 شام

یہ نشتر کیوں اُٹھا رکھّے ہیں اُس نے‘کچھ تو کہیے
اگر وہ درد کا درمان کرنا چاہتا ہے

یہ شعر بہت پسند آیا۔ "نشتر" کی جگہ "خنجر" نے زیادہ لطف دیا کہ نشتر تو طبیب کے ہاتھ میں بھی ہو سکتا ہے جو عین درد کا درمان ہوتا ہے، خنجر سے یہ کام ذرا مشکل ہے :)۔ یہ فقط میری ذاتی رائے ہے امید ہے برا نہیں مانیں گے۔
ایک اور اچھی غزل پر مبارک باد!
ایس فصیح ربانی — ستمبر 19، 2010 8:07 صبح
وارث بھائی!
آپ کا بہت شکریہ۔ یہ بات میرے ذہن میں آئی تھی لیکن بس جلدی میں جانے دیا
بیاض میں تبدیل کر دوں گا۔ ان شاء اللہ
بلکہ اس پوسٹ میں بھی کر دیتا ہوں۔
دانیال ابیر — ستمبر 19، 2010 12:04 شام
ربانی صاحب اچھی کوشش ہے
الف عین — ستمبر 19، 2010 7:57 شام
دوسری بار غزل پڑھی (پہلی بار علی گڑھ اردو کلب کی ای میل میں)، اور پسند آئی، خاص کر وارث کے مشورے کے بعد اور بہتر ہو گیا ہے وہ شعر بھی۔
ش زاد — ستمبر 20، 2010 6:39 شام
شاہین فصیحؔ ربانی
غزل
تمہاری فتح کا اعلان کرنا چاہتا ہے
زمانہ تم کو یوں حیران کرنا چاہتا ہے
اسے کہیے کہ میری مشکلیں بڑھنے لگی ہیں
جو میری مشکلیں آسان کرنا چاہتا ہے
اِسی میں فائدہ مضمر ہے میرا‘ جانتا ہوں
اگرچہ وہ مرا نقصان کرنا چاہتا ہے
دعائیں اُس کی خیریت کی ہیں میرے لبوں پر
جو میرے شہر کو ویران کرنا چاہتا ہے
یہ خنجر کیوں اُٹھا رکھّے ہیں اُس نے‘کچھ تو کہیے
اگر وہ درد کا درمان کرنا چاہتا ہے
وہ پھر ملنے لگا ہے مہرباں ہو کر‘ کہوں کیا
وہ پھر مجھ پر کوئی احسان کرنا چاہتا ہے
فصیحؔ اُس کو ہواؤں کی حمایت مل نہ جائے
وہ دنیا میں بپا طوفان کرنا چاہتا ہے

بہت خوب صاحب غزل بہت پسند آئی
محمداحمد — ستمبر 25، 2010 1:00 شام
بہت خوب شاہین فصیحؔ ربانی صاحب،
اچھی غزل ہے ۔ داد قبول کیجے۔
ایس فصیح ربانی — اکتوبر 4، 2010 7:59 شام
دانیال ابیر صاحب!
آپ کا بہت شکریہ۔
ایس فصیح ربانی — اکتوبر 4، 2010 8:01 شام
محترم الف عین صاحب!
آپ کی اس عنایت پر تہہ دل سے ممنون ہوں کہ میری حوصلہ افزائی ھوئی
ایس فصیح ربانی — اکتوبر 4، 2010 8:04 شام
محترم ش زاد صاحب!
آپ کا حسن نظر ہے یہ، بہت شکریہ
ایس فصیح ربانی — اکتوبر 4، 2010 8:06 شام
جناب محمد احمد صاحب!
آپ کا بہت شکریہ۔ بہت خوش رہیے۔
ایس فصیح ربانی — اکتوبر 10، 2010 7:17 شام
بھائی محمد احمد صاحب!
بہت بہت شکریہ۔ بہت خوش رہیے۔
فاتح — اکتوبر 10، 2010 9:44 شام
واہ کیا بات ہے جناب۔ سبحان اللہ! بہت سی داد قبول کیجیے۔
ایس فصیح ربانی — اکتوبر 12، 2010 8:01 شام
محترم فاتح صاحب!
آپ کا بہت شکریہ، بہت خوش رہیے۔
ایم اے راجا — اکتوبر 21، 2010 4:40 شام
بہت خوب غزل کہی ہے فصیح صاحب داد قبول ہو!
ایس فصیح ربانی — نومبر 2، 2010 1:27 شام
راجہ بھائی! آپکی عنایت ہے۔ بہت ممنون ہوں۔
مغزل — نومبر 3، 2010 6:05 صبح
فصیح صاحب ، ماشا اللہ خوب غزل ہے روایتی پیرائے میں مضامین کا دروبست اور چست مصرعے ۔۔ صاحب لطف آگیا ۔ ہدیہء تحسین حاضر ہے گر قبول افتد
ایس فصیح ربانی — نومبر 13، 2010 3:44 شام
محترم جناب م م مغل صاحب!
آپ کی اس عنایت پر تہِ دل سے ممنون ہوں۔
ہر پل شاد رہیے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AA%D9%85%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D9%81%D8%AA%D8%AD-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7-%DA%86%D8%A7%DA%BE%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92.31518/