غزل - خواب ہے یا خیال ہے دنیا

ایس فصیح ربانی — ستمبر 16، 2010 6:28 صبح
شاہین فصیح ربانی
غزل
خواب ہے یا خیال ہے دنیا
ایک مشکل سوال ہے دنیا
اس میں پھنس کر نکل نہیں سکتے
کوئی مکڑی کا جال ہے دنیا
خلدِ عقبیٰ ہے اُس کا مستقبل
جس کا ماضی نہ حال ہے دنیا
آئنہ ہے مثال دنیا کی
آئنے کی مثال ہے دنیا
چند لمحوں کی‘ ساعتوں کی نہیں
کاہشِ ماہ و سال ہے دنیا
ہم یونہی شعلہ زن نہیں پھرتے
باعثِ اشتعال ہے دنیا
کون ہے جو کہ مطمئن ہے فصیحؔ
کیا ترے حسبِ حال ہے دنیا
محمد وارث — ستمبر 16، 2010 10:06 صبح
چند لمحوں کی‘ ساعتوں کی نہیں
کاہشِ ماہ و سال ہے دنیا
بہت خوب۔۔۔۔۔۔
محمداحمد — ستمبر 16، 2010 10:19 صبح

آئنہ ہے مثال دنیا کی
آئنے کی مثال ہے دنیا
ہم یونہی شعلہ زن نہیں پھرتے
باعثِ اشتعال ہے دنیا

بہت خوب ٍ فصیح صاحب، اچھی غزل ہے۔
نذرانہ تحسین حاضرِ خدمت ہے۔
خوش رہیے۔
ایس فصیح ربانی — ستمبر 16، 2010 4:30 شام
محمد وارث صاحب!
اس عنایت پر ممنون ھوں۔ بہت خوش رہیے
ایس فصیح ربانی — ستمبر 16، 2010 4:32 شام
احمد بھائی!
آپ کی اس محبت کے لیے سراپا سپاس ہوں،
سدا خوش رہیے۔
الف عین — ستمبر 16، 2010 5:24 شام
ہم بھی خوش ہوئے اس غزل سے!! ماشاء اللہ اچھی غزل ہے۔
ایس فصیح ربانی — ستمبر 17، 2010 5:34 صبح
میں بھی خوش ھوا آپ کے اس بیان سے،
بہت شکریہ،
بہت زیادہ خوش رہیے۔
Rrahi — ستمبر 28، 2010 10:24 صبح
واہ فصیح بھائی کیا ہی خوب کلام ہے ، جتنی بار پڑھا ہے اتنا ہی زیادہ لطف آیا ۔
ایس فصیح ربانی — اکتوبر 4، 2010 8:09 شام
راہی بھائی!
آپ کی ان محبتوں کے لیے تہہ دل شکر گزار ہوں۔
ہر پل شاد رہیے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8-%DB%81%DB%92-%DB%8C%D8%A7-%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84-%DB%81%DB%92-%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7.31489/