غزل - دریائے غم کا راہ سے ہٹنا محال ہے

ایس فصیح ربانی — جولائی 14، 2010 8:18 شام
احباب کے ذوقِ مطالعہ کی نذرایک غزل
دریائے غم کا راہ سے ہٹنا محال ہے
اور آدھے راستے سے پلٹنا محال ہے
یھ وہ شب وصال نھیں ھے کھ بیت جائے
تنھائیوں کی رات ھے کٹنا محال ہے
دل چاھتوں کی دھوپ کو ترسے گا اب سدا
بادل کدورتوں کے ھیں چھٹنا محال ہے
عزم و یقیں کو خوف نے معدوم کر دیا
اب درمیاں کے فاصلے گھٹنا محال ہے
اب جبکہ سامنا ھے ھمیں شاہ مات کا
اب وقت کی بساط پلٹنا محال ہے
بے اختیار ھوں یھ بتایا پرند نے
اڑتے ھوئے پروں کا سمٹنا محال ہے
ٹکڑا ھوں اک زمین کا ایسا فصیح میں
جس مزید حصوں میں بٹنا محال ہے

شاھین فصیح ربانی
فرخ منظور — جولائی 14، 2010 9:44 شام
ربانی صاحب۔ براہِ مہربانی اس فورم میں صرف یونی کوڈ مواد ہی شئیر کیجیے۔ بہت شکریہ!
ش زاد — جولائی 22، 2010 1:19 شام
اب تجھ سے اختلاف بھی کرنا محال ہے
میں سوچ لوں تو سوچ لوں ورنا محال ہے
ایسا عجیب ربط کہ بے ربط سا لگے
اتنا مُہیب خوف کے ڈرنا محال ہے
زاھد کلیم
مغزل — جولائی 22، 2010 1:51 شام
شکریہ فصیح ، کہ آپ نے میری گزارش پر یونی کوڈ میں تبدیل کرلیا، بہت خوب
الف عین — جولائی 23، 2010 10:58 صبح
اچھی غزل ہے شاہین فصیح۔ لیکن دو باتیں۔
ایک تو یہ کہ یہاں ہائے ہوز ان پیج کے صوتی کی طرح ’او‘ o کی کنجی پر ہے۔
دوسرے یہ کہ اگر آپ کے پاس ان پیج فائل ہے تو دو بارہ ٹائپ کرنے کی محنت کرنے کی ضرورت نہیں۔
ایس فصیح ربانی — جولائی 24، 2010 7:55 صبح
محترم زاھد کلیم صاحب
آپ کے شعر بہت اچھے ہیں.
ایس فصیح ربانی
ایس فصیح ربانی — جولائی 24، 2010 8:08 صبح
محترم الف عین صاحب
سلام مسنون
آپ کا بہت شکریہ کہ غزل پسند فرمائی.
ان پج فائل کو یونی کوڈ میں کیسے تبدیل کرتے ہیں؟
الف عین — جولائی 24، 2010 11:22 صبح
ان پیج ٹو یونی کود کنورٹر ایک تو یہاں ہی ہے ابرار حسین کا بنایا ہوا۔
ایک، جس میں کافی کچھ خود کار تصحیح ہو جاتی ہے کمپوزنگ کی اغلاط کی بھی، وہ میرے ای سنپ فولڈر میں ہے
الف عین — جولائی 24، 2010 11:23 صبح
اور یہ لنک نہیں دیا تو عارف کریم کے ناراض ہونے کا خطرہ ہے
http://urdu.ca/convert

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%BA%D9%85-%DA%A9%D8%A7-%D8%B1%D8%A7%DB%81-%D8%B3%DB%92-%DB%81%D9%B9%D9%86%D8%A7-%D9%85%D8%AD%D8%A7%D9%84-%DB%81%DB%92.30626/