غزل - دل کی دھرتی پہ یوں اُترتا ہے

فرخ نوازفرخ ۔ صوابی — اپریل 1، 2016 12:00 شام
دل کی ‎دھرتی پہ یوں اُترتا ھے
‎جیسے تاراکوئی اُبھرتا ھے
‎عشق چُپ چاپ رە نہیں سکتا
‎خوشبووں کی طرح بکھرتا ھے
‎کر توسکتا نہیں اظہارمگر
‎لوگ کہتے ہیں مجھ پہ مرتا ھے
‎میں بھلا اُس کا یقیں کیسے کروں
‎وە تو سچ بولنے سے ڈرتا ھے
‎وە تخیل میں بنا کر مجھ کو
‎اپنی مرضی کے رنگ بھرتا ھے
‎میرے دل کی گلی سے وە فرخ
‎دن میں سو بار ھی گزرتا ھے
‎ فرخ نوازفرخ
یوسف سلطان — اپریل 1، 2016 6:15 شام
بہت خوب
محمدظہیر — اپریل 2، 2016 4:44 صبح
بہت خوب جناب
الف عین — اپریل 2، 2016 5:42 شام
یہی وہ غزل ہے جس پر میں خاموش رہا ہوں، لیکن دوسرے دھاگے میں پھر منہ کھولنا ہی پڑا!!
فرخ نوازفرخ ۔ صوابی — اپریل 3، 2016 4:12 صبح
لڑی کو ڈیلیٹ کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
محمد وارث — اپریل 3، 2016 4:51 صبح
یہی وہ غزل ہے جس پر میں خاموش رہا ہوں، لیکن دوسرے دھاگے میں پھر منہ کھولنا ہی پڑا!!
درست فرمایا آپ نے اعجاز صاحب اس میں دو بحریں جمع ہو گئی ہیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AF%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%D9%BE%DB%81-%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D8%A7%D9%8F%D8%AA%D8%B1%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92.89019/